Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

95 - 465
٢ ونحن نقول انہ یدعی لزوم العقد وتملک البضع والمرأة تدفعہ فکانت منکرةً کالمودع اذا ادعی رد الودیعة ٣ بخلاف مسألة الخیار لان اللزوم قد ظہر بمضی المدة 

خلاف ہو اس کو مدعی کہتے ہیں اور جو مدعی ہو تا ہے اس پراس کو ثابت کرنے کے لئے گواہ چا ہئے ، اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہو تو مدعی علیہ سے قسم لی جاتی ہے ۔ اب چپ رہنے کا ترجمہ ہے کلام نہ کر نا ، اور کلام نہ کر نا اصل ہے اور رد کر نا عارض ہے ، اور شوہر کلام نہ کر نے کا دعوی کر رہا ہے اس لئے وہ مدعی علیہ ہوا  اس لئے اس پر قسم ہو نی چا ہئے اور اس کے خلاف عورت مدعیہ ہوئی اس لئے اس پر گواہ لازم ہو نا چا ہئے ۔
 اور مثال مشروط لہ الخیار کی پیش کی ہے ۔ مشروط لہ الخیار: مثلا زید نے بکر سے بیل خریدا اور تین دن کا اختیار لیا ، کہ چا ہوں تو اس بیع کو لازم کروں اور چاہوں تو اس کو توڑ دوں ، تو جس نے تین دن کا خیار شرط لیا اس آدمی کو مشروط لہ الخیار کہتے ہیں  ، اب تین دن گزر نے کے بعد مشروط الخیار ]زید [نے دعوی کیا کہ میں نے بیع کو رد کر دیا تھا ، اور بکر کہتا ہے کہ تم چپ رہے تھے ، اس لئے بیع لازم ہو گئی ، تو اس صورت میں بکر جو چپ رہنے کا دعوی کر رہا ہے اس کی بات مانی جائے گی ، اس لئے کہ چپ رہنا اصل ہے اس لئے وہ مدعی علیہ ہے اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو مدعی علیہ کی بات قسم کے ساتھ مانی جاتی ہے ۔ اسی طرح یہاں بھی شوہر چپ رہنے کا دعوی کر رہا ہے اس لئے وہ مدعی علیہ ہوا اور عورت کے پاس گواہ نہ ہو تو قسم کے ساتھ شوہر کی بات مانی جائے گی ۔  
 ترجمہ : ٢   ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ عقد  کے لازم ہو نے کا دعوی کر تا ہے اور بضعہ کے مالک ہو نے کا دعوی کر تا ہے اور عورت اس کا انکار کرتی ہے اس لئے وہ منکرہ ہوئی ]اس لئے منکرہ کی بات مانی جائے گی [ جیسے کہ امانت رکھنے والا امانت واپس کر نے کا دعوی کر تا ہے ۔ 
تشریح :   ہماری دلیل یہ ہے کہ شوہر یہ دعوی کر رہا ہے کہ نکاح ہو گیا اور میں بضعہ کا مالک بن گیا ، اور عورت اس کو دفع کر رہی ہے اس لئے وہ منکرہ ہوئی اس لئے منکرہ کی بات مانی جائے گی ، اس کی مثال یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس امانت رکھا] اس کو مودع کہتے ہیں [ اس نے کہا کہ میں نے امانت واپس کیا ہے ، اور جس آدمی کی امانت ہے]اس کو صاحب ودیعت کہتے ہیں [ وہ کہتا ہے کہ واپس نہیں کیا ہے تو مودع کی بات مانی جائے گی اس لئے کہ وہ دعوی کر تا ہے کہ میں ذمے سے فارغ ہوگیا ہوں ، اور ذمے سے فارغ ہو نا اصل ہے ، اس لئے وہ مدعی علیہ ہوا، اورصاحب ودیعت ذمے میں ہو نے کا دعوی کر تا ہے اس لئے وہ مدعی ہوا اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو قسم کے ساتھ مدعی علیہ کی بات مانی جائے گی ۔ 
ترجمہ :  ٣  بخلاف مسئلہ خیار کے اس لئے کہ مدت کے گزر نے کی وجہ سے لازم ہو نا ظاہر ہو گیا ۔ 
 تشریح :   یہ امام زفر  کو جواب ہے ، جب اختیار لینے کا تین دن گزر گیا تو دن گزرنے کی وجہ ہی سے بیع لازم ہو گئی ، اب من لہ 

Flag Counter