Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

94 - 465
٤   الزناء فقد ندب الی سترہ حتی لو اشتہر حالہا لایکتفی بسکوتہا (١٥٤٣) واذا قال الزوج بلغک النکاح فسکت وقالت رددت فالقول قولہا ) ١ وقال زفر القول قولہ لان السکوت اصل والردعارض فصار کالمشروط لہ الخیار اذا ادعی الرد بعد مضی المدة 

نکاح فاسد : بغیر گواہ کے نکاح کر لیا تویہ نکاح فاسدہے ، باکرہ لڑکی سے نکاح فاسد میں وطی کیا تو ، اس وطی کے بعد لڑکی کو تین حیض عدت گزانی ہو گی ، وطی کر نے والے کو مہر دینا ہو گا ، اگر اس وطی سے بچہ پیدا ہو گا تو وطی کر نے والے سے نسب ثابت ہو گا ، شریعت نے نکاح فاسد میں وطی پر یہ سب احکام رکھے ہیں ، چونکہ ان احکام کے اظہار سے لو گوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورت ثیبہ ہو چکی ہے اس لئے یہ لڑکی ثیبہ کے حکم میں ہو گی اور چپ رہنا اجازت شمار نہیں کی جائے گی ۔      
  ترجمہ : ٤  بہر حال زنا تو مستحب کیا گیا ہے اس کے چھپانے کو، یہاں تک کہ اس کا حال مشہور ہو گیا تو اس کے چپ رہنے پر اکتفاء نہیں کیا جائے گا ۔ 
تشریح :   زنا کو چھپا نا مستحب ہے اس لئے اس کو باکرہ کے حکم میں رکھنا بہتر ہے ، لیکن اگر بار بار زنا کرانے کی وجہ سے اس کی زنا مشہور ہو گئی تو اب وہ ثیبہ کے حکم میں ہو گی اور چپ رہنے پر اکتفاء نہیں کیا جائے گا ، بلکہ زبان سے اجازت دینی ہوگی ۔  
ترجمہ :(١٥٤٣)اگر شوہر نے باکرہ سے کہا کہ تم کو نکاح کی خبر پہنچی تھی تو تم چپ رہی تھی اور عورت کہتی ہے بلکہ میں نے انکار کیا تھا تو عورت کی بات مانی جائے گی] اور عورت پر قسم نہیں ہے[  
تشریح:   عورت باکرہ تھی اس کی شادی ہوئی اور اس کو شادی کی خبر دی گئی۔اب اگر وہ چپ رہتی ہے تو یہ اجازت ہوگی اور نکاح ہو جائے گا۔اور زبان سے انکار کرتی ہے تو نکاح نہیں ہوگا۔اب شوہر کا دعوی ہے کہ عورت چپ رہی ہے۔اور عورت کہتی ہے کہ میں نے انکار کیا تھا تو بات عورت کی مانی جائے گی ۔
 وجہ:  شوہر عقد کے لازم ہونے اور بضعہ کے مالک ہونے کا دعوی کر رہا ہے اور عورت اس کا انکار کرتی ہے۔اس لئے مرد مدعی ہوا اور عورت منکر ہوئی ۔اس لئے مرد پر بینہ لازم ہے۔اور اس کے پاس بینہ نہیں ہے تو منکرہ کی بات مانی جائے گی۔البتہ چونکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نکاح میں عورت پر قسم نہیں ہے اس لئے وہ قسم نہیں کھائے گی۔بغیر قسم کے اس کی بات مانی جائے گی۔
ترجمہ :  ١    امام زفر  نے فر ما یا کہ مرد کے قول کا اعتبار کیا جائے گا ، اس لئے کہ چپ رہنا اصل ہے اور رد کر نا عارض ہے ، تو ایسا ہو گیا کہ جس کے لئے خیار کی شرط ہے وہ مدت گزر نے کے بعد رد کا دعوی کر تا ہے ۔
تشریح :   امام زفر فر ما تے ہیں کہ اس صورت میں شوہر کے قول کا اعتبار ہے ، اس کے لئے  ایک دلیل پیش کی ہے اور ایک مثال دی ہے ۔دلیل سمجھنے کے لئے ایک بات یاد رکھئے کہ ، جو اصل کے مطابق دعوی کرے اس کو مدعی علیہ ما نتے ہیں ، اور جو اصل کے 

Flag Counter