والمثابة والتثویب ٢ ولابی حنیفة ان الناس عرفوہا بکرا فیعیبونہا بالنطق فتمتنع عنہ فیکتفی بسکوتہا کیلا تتعطل علیہا مصالحہا ٣ بخلاف ما اذا وطیت بشبہة او نکاح فاسد لان الشرع اظہرہ حیث علق بہ احکاما اما
ہے اس لئے کہ اس سے وطی کر نے والا دوسری مرتبہ وطی کر نے والا ہے ، اسی سے ٫ مثوبة ، اور مثابة ، اور التثویب، ہے ۔
تشریح : امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی کی رائے ہے کہ جس عورت کا پردہ زنا سے ٹوٹا ہے وہ اجازت دینے کے احکام میں ثیبہ کی طرح ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آدمی بھی اس سے وطی کرے گا وہ پہلی مرتبہ وطی کر نے والا نہیں ہے ، بلکہ دوسری مرتبہ وطی کر نے والا ہے اس لئے یہ ثیبہ کی طرح ہوئی ، چنانچہ اسی سے یہ تین جملے مشتق ہوتے ہیں ، مثوبة ، اور مثابة ، اور التثویب اور سب کا ترجمہ ہے دوسری مرتبہ ۔
لغت : ثیب : لوٹنا ، ثواب ہو نا ، بار بار آنا ، ثیبہ کے پاس دوسری مرتبہ وطی کر نے والا ہو تا ہے اس لئے اس کو ثیبہ کہتے ہیں ۔ مثوبة نیک عمل کا بدلہ ، گویا کہ دو بارہ عمل مل گیا ۔ مثابة : بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ ، مکہ مکرمہ کو مثابة کہتے ہیں اس لئے کہ وہاں بار بار حج یا عمرہ کے لئے لوٹ کر جاتے ہیں ۔ تثویب : ایک مرتبہ اعلان کے بعد دوسری مرتبہ اذان کا اعلان کر نا ۔مصیبھا عائد الیھا : اس کو پہونچنے والا دو بارہ لوٹنے والا ہے ، یعنی اس کو وطی کرنے والا دوسری مرتبہ وطی کر نے والا ہے ۔
ترجمہ : ٢ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ لو گوں نے اس کو باکرہ سمجھا ہے اس لئے زبان سے اجازت دینے میں اس کو معیوب سمجھیں گے اس لئے وہ بات کر نے سے رکیں گی اس لئے اسکے چپ رہنے پر اکتفاء کیا جائے تاکہ اس کی مصلحت معطل نہ ہو جائے۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ لو گوں نے اس کو باکرہ سمجھا ہے ، کیونکہ زنا چھپ کر کرایا ہے ، اور حدیث کی بنا پر اس کو چھپا رہنا ہی چا ہئے ، پس اگر زبان سے اجازت دلوائیں تو لوگ اس کو زانیہ سمجھیں گے اور معیوب قرار دیں گے اور اچھے گھرانے میں شادی نہیں ہو گی اس لئے مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو باکرہ کے حکم میں رکھا جائے۔
ترجمہ : ٣ بخلاف جبکہ شبہ میں وطی ہوئی ہو ، یا نکاح فاسد میں وطی ہوئی ہو اس لئے کہ شریعت نے اس کو ظاہر کر دیا اس طرح کہ اس پر بہت سے احکام متعلق کر دئے ۔
تشریح : وطی بالشبہ: باکرہ لڑکی رات میں سوئی ہوئی تھی اس کو اپنی بیوی سمجھ کر وطی کر لیا تو اس کو وطی بالشبہ کہتے ہیں ، اس وطی کے بعد لڑکی کو تین حیض عدت گزانی ہو گی ، وطی کر نے والے کو مہر دینا ہو گا ، اگر اس وطی سے بچہ پیدا ہو گا تو وطی کر نے والے سے نسب ثابت ہو گا ، شریعت نے وطی بالشبہ پر یہ سب احکام رکھے ہیں ، چونکہ ان احکام کے اظہار سے لو گوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورت ثیبہ ہو ہو چکی ہے اس لئے یہ لڑکی ثیبہ کے حکم میں ہو گی اور چپ رہنا اجازت شمار نہیں کی جائے گی ۔