١ لانہا بکر حقیقة لان مصیبہا اول مصیب لہا ومنہ الباکورة والبکرة ٢ ولانہا تستحیی لعدم الممارسة ۔ (١٥٤٢) ولو زالت بکارتہا بزناء فہی کذٰلک عندابی حنیفةٰٰٰٰ ) ١ وقال ابویوسفومحمد والشافعی لا یکتفی بسکوتہا لانہا ثیب حقیقة لان مصیبہا عائد الیہاومنہ المثوبة
لغت: بکارة : لڑکی کی شرمگاہ میں ایک پردہ ہو تا ہے ، جسکو پردہ بکارت کہتے ہیں ، وطی کی وجہ سے جب تک وہ پردہ نہ ٹوٹے اس وقت تک اس لڑکی کو باکرہ کہتے ہیں ۔ وثبة : کودنا۔ جراحة : زخم، تعنیس : مدت دراز تک شادی کے بغیر رہنا۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ وہ حقیقت میں باکرہ ہے اس لئے کہ اس سے وطی کر نے والا پہلی مرتبہ وطی کر نے والا ہے ، اور اسی سے باکورة ، اور بکرہ ،ہے ۔
تشریح : باکورة : پہلا پھل ، بکرة : پہلی صبح ۔ باکرة ، جس سے وطی کر نے والا پہلی مرتبہ وطی کر نے والا ہے ۔ بکرة کے مادے میں پہلی مرتبہ ، چنانچہ پہلے پھل کو باکورة کہتے ہیں ، اور پہلی صبح کو بکرة کہتے ہیں ور اس عورت کا پردہ چا ہے ٹوٹ گیا ہے لیکن چونکہ اس سے وطی کر نے والا پہلی مرتبہ وطی کر نے والا ہے اس لئے اس کو باکرہ ہی کہیں گے۔
ترجمہ : ٢ اور اس لئے کہ شوہر سے نہ ملنے کی وجہ سے وہ شرمندہ ہو تی ہے ۔
تشریح : شوہر سے نہ ملنے کی وجہ سے یہ زبان سے اجازت دینے میں شرمند گی ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے یہی ہے کہ چپ رہنا ، اور ہنسنا اجازت ہو گی ۔ ۔ تستحی : حی سے مشتق ہے ، شرمندہ ہو نا۔
ترجمہ : (١٥٤٢) اگر بکارت زائل ہو گئی زنا کی وجہ سے تو وہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک باکرہ کی طرح ہے۔
تشریح : زنا کی وجہ سے بکارت زائل ہو جائے تب بھی امام ابو حنیفہ کے نزدیک وہ لڑکی باکرہ کے حکم میں ہے ، یعنی چپ رہنے ، اور ہنسنے سے بھی اجازت سمجھی جائے گی ۔
وجہ: (١) امام ابو حنیفہ کی نظر معاشرہ کی طرف گئی کہ معاشرے میں لوگ اس کو باکرہ سمجھتے ہیں اس لئے زنا سے بکارت ٹوٹی ہوئی عورت باکرہ کے حکم میں ہوگی (٢) ایسی لڑکی زنا کو چھپاتی ہے اس لئے وہ شرم کا مظاہرہ کرے گی اور زبان سے نہیں کہے گی۔اس لئے اس کا چپ رہنا ہی اجازت شمار کی جائے گی۔(٣) امام ابو حنیفہ کی نظر اس حدیث کی طرف گئی ہے۔ عن یزید بن نعیم عن ابیہ أن ماعزا أتی النبی ۖ فأقر عندہ أربع مرات فأمر برجمہ و قال لھزال لو سترتہ بثوبک کان خیر ا لک۔ ( ابو داود شریف ، باب الستر علی أھل الحدود ، کتاب الحدود ، ص ٦١٥، نمبر ٤٣٧٧) اس میں ہے کہ زنا کو چھپا لیتا تو بہتر تھا ، جس سے معلوم ہوا کہ زنا کو چھپا نا بہتر ہے ۔
ترجمہ : ١ امام ابو یوسف امام محمد امام شافعی نے فر ما یا کہ اس کے چپ رہنے سے کا فی نہیں ہو گا اس لئے کہ وہ حقیقت میں ثیبہ