٢ ثم المخبر ان کان فضولیا یشترط فیہ العدد او العدالة عند ابی حنیفة خلافاً لہما ٣ ولو کان رسولا لایشترط اجماعا ٤ ولہ نظائر (١٥٤٠) ولو استاذن الثیب فلابد من رضاہا بالقول ) ١ لقولہ علیہ السلام الثیب تشاور
چپ رہنا اور ہنسنا کا فی نہیںہو گا بلکہ زبان سے اجازت دینی ہو گی۔ اس لئے کہ نکاح کے لئے اجازت لینا اور نکاح کے بعد اس کو بحال رہنے کے لئے اجازت لینا دو نوں ایک ہی درجے میں ، چپ رہنے کی دلالت میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ وہی تفصیل ہے جو اوپر گزری ۔
ترجمہ : ٢ پھر خبر دینے والا اگر فضولی ہے تو اس میں عدد کی شرط ہے یاعدالت کی شرط ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ، خلاف صاحبین کے ۔
تشریح : اگر نکاح کا خبر دینے والا نہ ولی ہو اور نہ ولی کا قاصد ہو ، بلکہ فضولی ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ دو فضولی خبر دینے والا ہو ، یا ایک فضولی ہو تو وہ عادل ہو ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک فضولی سے کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گواہی کی آدھی شرط ہو ، معاملات کی گواہی دینے میں دو شرطیں ہیں ]١[ ایک شرط ہے کہ دو گواہ ہوں ، ]٢[ اور دوسری شرط ہے کہ دو نوں عادل ہوں ، اس کو شطر الشہادة کہتے ہیں ۔ فضولی میں دو شرطوں میں سے ایک کا ہو نا ضروری ہے ۔ اور صاحبین کے یہاں دو نوں شرطوں میں کوئی ضروری نہیں ہے اس لئے ایک غیر عادل فضولی بھی خبر دے دے تو بات ثابت ہو جائیگی۔
ترجمہ : ٣ اوراگر ولی کا قاصد ہو تو بالاتفاق کسی چیز کی شرط نہیں ہے ۔
تشریح : اگر رسول کا قاصد ہو تو کسی کے یہاں شہادت یا شطر شہادت کی ضرورت نہیں ہے اس لئے ایک آدمی بھی آکر لڑکی کو خبر دے دے تو کافی ہے اور اس وقت وہ چپ رہے یا ہنسے تو اجازت ہوگی ۔
ترجمہ : ٤ اور اس کے لئے بہت سی مثالیں ہیں ۔
تشریح : کسی نے اپنے وکیل کو معزول کر دیا ، اور کسی فضولی نے وکیل کو معزول ہو نے کی خبر دی تو امام ابو حنیفہ کے یہاں ضروری ہے کہ شطر شہادة ہو ، یعنی دو فضولی ہو یا ایک فضولی ہو تو عادل ہو تب وکیل معزول ہو گا ۔اور صاحبین کے یہاں فضولی کے خبر دینے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے ۔۔ نظیر : مثال ۔
ترجمہ :(١٥٤٠)اور اگر ثیبہ سے اجازت لی تو ضروری ہے اس کی رضامندی بات سے۔
ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ ثیب سے مشورہ کیا جائے گا ۔
تشریح : ثیبہ عورت سے ولی نکاح کے لئے اجازت لے تو با ضابطہ اس کو زباں سے کہنا پڑے گا کہ میں اس نکاح سے راضی