٤ و انما یملک الاب قبض الصداق براضائہا دلالة ولہذا لایملک مع نہیہا (١٥٣٥) قال فاذااستاذنہا الولی فسکتت او ضحکت فہو اذن) ١لقولہ علیہ السلام البکر تستامر فی نفسہا فان سکتت فقد رضیت
خطابات اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس پر نماز روزہ فرض ہو گیا ۔ آگے دو مثالیں دے رہے ہیں ]١[ اس لئے یہ بالغہ لڑکے کی طرح ہو گئی ، یعنی لڑکا بالغ ہو نے کے بعد اس کو ولی مجبور نہیں کر سکتا ، اسی طرح بالغہ کو بھی ولی مجبور نہیں کر سکتا ۔]٢[ دوسری مثال یہ ہے کہ یہ اپنے مال میں تصرف کر نے میں کوئی ولی مجبور نہیں کر سکتا ، اسی طرح نکاح میں بھی کوئی مجبور نہیں کر سکتا ۔
ترجمہ : ٤ باپ مہر پر قبضہ کر نے کا مالک ہے دلالةلڑکی کی رضامندی سے اسی وجہ سے اس کے روکنے کے بعد قبضہ کر نے کا مالک نہیں ہو گا ۔
تشریح : یہ بھی امام شافعی کو جواب ہے ، انہوں نے استدلال کیا تھا کہ ولی مہر پر قبضہ کر نے کا اختیار رکھتا ہے تو اس کا جواب ہے کہ لڑکی کی جانب سے دلالت کے طور پر رضامندی ہے اس لئے بغیر اس کے حکم کے بھی مہر پر قبضہ کر نے کا اختیار ہے ، یہی وجہ ہے کہ لڑکی مہر پر قبضہ کر نے سے روک دے تو ولی مہر پر قبضہ نہیں کر سکتا ۔
ترجمہ : (١٥٣٥) جب باکرہ سے ولی نے اجازت مانگی پس وہ چپ رہی یا ہنسی تو یہ اس کی جانب سے اجازت ہے۔
ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ باکرہ سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی ، پس اگر چپ رہی تو سمجھو راضی ہو گئی ۔
تشریح : چونکہ باکرہ عورت شرمیلی ہوتی ہے وہ صراحت کے ساتھ شادی کی اجازت دینے سے شرماتی ہے۔اس لئے ان طریقوں سے اس کی اجازت کا پتہ چلتا ہے۔اس لئے اگر وہ چپ رہی یا ہنس پڑی تو اجازت شمار کی جائے گی۔اور کبھی خوشی سے رو بھی پڑتی ہے۔اس لئے بغیر آواز کے رونا اجازت پر دلیل ہے۔ لیکن آواز کے ساتھ رونا انکار کی دلیل ہے۔اس لئے اگر آواز سے روئی تو نکاح کرانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
وجہ (١)چپ رہنے سے اجازت شمار ہو گی اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔ صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ان ابا ھریرة حدثھم ان النبی ۖ قال لا تنکح الایم حتی تستأمر ولا تنکح البکر حتی تستأذن قالوا یارسول اللہ ۖ کیف اذنھا ؟ قال ان تسکت ۔ (بخاری شریف ، باب لا ینکح الاب وغیرہ البکر والثیب الا برضاھا ،ص ٧٧١ ،نمبر ٥١٣٦ مسلم شریف ، استئذان الثیب فی النکاح بالنطق والبکر بالسکوت ،ص ٤٥٥ ،نمبر ١٤١٩ ٣٤٧٣)(٢) اس حدیث میں بھی اس کا ثبوت ہے۔عن