Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

85 - 465
٢ ولنا انہا حرة فلایکون للغیر علیہا ولاےة الاجبار ٣ و الولاےة علی الصغیرة لقصور عقلہا وقد کمل بالبلوغ بدلیل توجہ الخطاب فصار کالغلام  وکالتصرف فی المال 

ہے کہ صرف باپ کو اس کی اجازت ہے کہ وہ باکرہ بالغہ کو مجبور کرے اس کے علاوہ دوسرے ولی کو یہ حق نہیں ہے ، مو سوعہ کی عبارت یہ ہے ۔و لم اعلم أھل العلم اختلفوا فی انہ لیس لاحد من الاولیاء غیر الآباء ان یزوج بکرا و لا ثیبا الا باذنھا فاذا کانوا لم یفرقوا بین البکر و الثیب البالغین لم یجز الا ما وصفت فی الفرق بین البکر و الثیب فی الاب ]الولی [ و غیر الولی ۔ ( موسوعة امام شافعی  باب ما جاء فی نکاح الاباء ، ج عاشر ، ص ٥٩، نمبر ١٥٤٠٢) اس عبارت میں ہے کہ باپ کے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے کہ بالغہ] چا ہے باکرہ ہو یا ثیبہ [ کا نکاح  بغیر اس کی اجازت کے کر دے ۔  
وجہ :   صاحب ہدایہ نے انکی دلیل عقلی یہ پیش کی ہے (١) اصل بنیاد یہ ہے کہ شوہر کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے شوہر کے انتخاب کا تجربہ نہیں ہے اس لئے ولی اس کو مجبور کر سکتا ہے ، پس جس طرح نا بالغ لڑکی کو شوہر کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے شوہر کے انتخاب کر نے کا تجربہ نہیں ہے اس لئے ولی کو مجبور کر نے کی ولایت ہے ، اسی پر قیاس کرتے ہوئے بالغہ باکرہ کو بھی شوہر کے انتخاب کر نے کا تجربہ نہ ہو نے کی وجہ سے ولی کو مجبور کرنے کی ولایت ہو نی چا ہئے ۔ (٢) اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ باپ کو حق ہے کہ باکرہ بالغہ کے حکم کے بغیر اس کے مہر کو خود قبضہ کر لے ، پس جس طرح اس کے مہر کو قبضہ کر سکتا ہے اسی طرح اس کو نکاح پر مجبور بھی کر سکتا ہے ۔(٣) ان کی دلیل اوپر کی حدیث ہے۔  لا نکاح الا بولی،ہے اس میں ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہو گا ، جس سے معلوم ہوا کہ ولی کو مجبور کرنے کا حق ہے (٤) حضرت حفصہ کو ان کے والد حضرت عمر نے شادی کرائی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ ولی کو نکاح کرانے کا حق ہے ، حدیث یہ ہے ۔ و قال عمر : خطب النبی  ۖ الی حفصة فأنکحتہ ۔( بخاری شریف ، باب تزویج الاب ابنتہ من الامام ، ص ٩١٨، نمبر ٥١٣٤)  اس حدیث میں ہے کہ حضرت عمر  نے اپنی بیٹی کی شادی کرائی ، جس سے معلوم ہوا کہ ولی کو مجبور کر نے کا حق ہے ۔
ترجمہ : ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ آزاد ہے اس لئے غیر کو اس پر مجبور کرنے کی ولایت نہیں ہو گی ۔
تشریح : ۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ باکرہ بالغہ آزاد ہے اس لئے دوسرے کو مجبور کر نے کی ولایت نہیں ہو گی ۔
ترجمہ :  ٣  اور چھوٹی لڑکی پر ولایت اس کی عقل کے کم ہو نے کی وجہ سے ہے اور بالغ ہو نے کی وجہ سے وہ کامل ہو گئی ، اس دلیل سے کہ شریعت کا خطاب متوجہ ہوا ، اس لئے وہ لڑکے کی طرح ہو گئی ، اور مال میں تصرف کے طرح ہو گیا ۔ 
تشریح :  یہ امام شافعی  کے قیاس کا جواب ہے ، انہوں نے باکرہ بالغہ کو صغیرہ پر قیاس کیا تھا ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ صغیرة پر ولایت اس لئے ہے کہ اس کی عقل ناقص ہے ، اور بالغ ہو نے کی وجہ سے اس کی عقل کامل ہو گئی ، یہی وجہ ہے کہ شریعت کے تمام 

Flag Counter