(١٥٣٤)ولایجوز للولی اجبار البکر البالغة علی النکاح) ١ خلافا للشافعی لہ الاعتبار بالصغیرة وہذا لانہا جاہلة بامر النکاح لعدم التجربة ولہذا یقبض الاب صداقہا بغیر امرہا
ترجمہ : (١٥٣٤)اور نہیں جائز ہے ولی کے لئے باکرہ ، بالغہ ،عاقلہ کو نکاح پر مجبور کرنا۔
تشریح : نابالغ بچی ہو تو ولی نکاح کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔لیکن بالغ ہو چکی ہو اور عاقل اور آزاد بھی ہو تو ولی اس کو نکاح پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یا ولی نکاح کر دے اور لڑکی کی مرضی کے بغیر یہ کہے کہ اس کو قبول کر لو اور نافذ کر لو تو یہ صحیح نہیں ہے ۔
وجہ: (١) وہ آزاد ہے عاقلہ ہے، اور خود مختار ہے۔اس لئے اس کو مجبور نہیں کر سکتا (٢) حدیث میں ہے کہ باپ نے باکرہ کی شادی بغیر اس کی رضامندی کے کر دی تو آپۖ نے اس نکاح کو توڑنے کا اختیار دیا، حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس ان جاریة بکرا اتت النبی ۖ فذکرت ان اباھا زوجھا وھی کارھة فخیرھا النبی ۖ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستامرھا ص ٢٩٢ نمبر ٢٠٩٦ دار قطنی ، کتاب النکاح ج ثالث ص ١٦٣ نمبر ٣٥١٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باکرہ عورت کی بھی بغیر اس کی رضامندی کے شادی کرادی تو اس کو توڑنے کا اختیار ہوگا(٣) اوپر کی حدیث۔ان ابا ھریرة حدثھم ان النبی ۖ قال لا تنکح الایم حتی تستأمر ولا تنکح البکر حتی تستأذن قالوا یارسول اللہ ۖ کیف اذنھا ؟ قال ان تسکت ۔ (بخاری شریف ، باب لا ینکح الاب وغیرہ البکر والثیب الا برضاھا ،ص ٧٧١ ،نمبر ٥١٣٦ مسلم شریف ، استئذان الثیب فی النکاح بالنطق والبکر بالسکوت ،ص ٤٥٥ ،نمبر ١٤١٩ ٣٤٧٣ ابو داؤد شریف ، باب فی الاستیمار ،ص ٢٩٢ ،نمبر ٢٠٩٢ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی استیمار البکر والثیب ،ص ٢١٠ ،نمبر ١١٠٧)اس حدیث میں ہے کہ باکرہ سے اجازت لی جائے ، جس سے معلوم ہوا کہ اس کی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔(٤) اس حدیث میں ہے ۔عن ابی سعید الخدری ان رجلا ....فقال رسول اللہ ۖ لا تنکحوھن الا باذنھن ۔( دار قطنی ، باب کتاب النکاح ، ج ثالث ، ص ١٦٦، نمبر٣٥٣٠) اس حدیث میں ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر نکاح مت کیا کرو، اس لئے اس کو مجبور کر نا جائز نہیں ۔(٥) نا بالغ لڑکی کی شادی ولی کرا سکتا ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عائشة ان النبیۖ و تزوجھا و ھی بنت ست سنین و ادخلت علیہ و ھی بنت تسع و مکثت عندہ تسعا ۔ ( بخاری شریف ، باب انکاح الرجل ولدہ الصغار ، ص٩١٨، نمبر ٥١٣٣) اس حدیث میں حضرت عائشہ چھوٹی ہیں اس لئے اس کے باپ نے انکی شادی کرائی ۔
ترجمہ : ١ خلاف امام شافعی کے،انکی دلیل ہے کہ وہ نا بالغ لڑکی پر قیاس کرتے ہیں ، اور یہ وجہ بھی ہے کہ تجربہ نہ ہو نے کی وجہ سے نکاح کے معاملے کا جاہل ہے ، اسی لئے بغیر اس کے حکم کے باپ اس کے مہر پر قبضہ کر سکتا ہے ۔
تشریح : امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ باکرہ چا ہے بالغہ ہو اس کو ولی نکاح پر مجبور کر سکتا ہے ۔موسوعہ کی عبارت سے معلوم ہو تا