الازواج ٦ وانما یطالب الولی بالتزویج کیلا تنسب الی الوقاحة ٧ ثم فی ظاہر الرواےة لا فرق بین الکفو وغیر الکفو لکن للولی الاعتراض فی غیر الکفو ٨ وعن ابی حنیفة وابی یوسف انہ لایجوز فی غیر الکفو لانہ کم من واقع لایرفع ٩ ویروی رجوع محمد الی قولہما
کہ وہ عاقلہ ہے ، نفع نقصان کی تمیز رکھتی ہے اسی لئے اس کو مال کے تصرف کر نے کا حق ہو تا ہے اسی لئے اس کو شوہر کو انتخاب کر نے کا حق ہو گا ۔
تشریح : عورت سے نکاح جائز ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کر نا اس کا اپنا ذاتی حق ہے ، کیوکہ وہ عاقلہ ہے بالغہ ہے اور نفع نقصان کی تمیز رکھتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق رکھتی ہے اس لئے شوہر کو بھی انتخاب کر نے کا حق رکھے گی۔
ترجمہ : ٦ ولی سے نکاح کرانے کا مطالبہ اس لئے کرانا چاہتے ہیں کہ تاکہ بے شرمی کی طرف منسوب نہ کیا جائے ۔
تشریح : یہ ایک اشکال کا جواب ہے، اشکال یہ ہے کہ اگر عورت کے نکاح کرنے سے نکاح ہو جا تا ہے تو پھر ولی سے نکاح کرانے کا مطالبہ کیوں کیا جا تا ہے ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ تاکہ عورت کو لوگ بے شرم نہ کہیں ۔۔ تزویج : نکاح کرانا ۔ وقاحة : بے شرمی۔
ترجمہ : ٧ پھر ظاہر روایت میں کفو اور غیر کفو میںکوئی فرق نہیں ہے لیکن غیر کفو میں ولی کو اعتراض کا حق ہو گا
تشریح : ظاہر روایت یہ ہے کہ کفو میں نکاح کرے تب بھی نکاح ہو جائے گا ، اور غیر کفو میںکرے تب بھی نکاح ہو جائے گا ، البتہ غیر کفو میںکرے تو ولی کو اعتراض کر نے کا حق ہو گا ، یہ اعتراض قاضی کے پاس کرے ، پھر وہ مناسب سمجھے تو نکاح توڑوا دے ، اور مناسب سمجھے تو نکاح بر قرار رکھے ۔
ترجمہ : ٨ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی ایک روایت یہ ہے کہ غیر کفو میں جائز نہیں ہے اس لئے کہ بہت سے نکاح واقع ہو نے کے بعد پھر اٹھتا نہیں ہے ۔
تشریح : شیخین کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ غیر کفو میں عورت نے نکاح کیا ہو تو نکاح ہو گا ہی نہیں ، اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ نکاح ہو جا نے کے بعد بعض مرتبہ ٹوٹتا نہیں ہے اس لئے یوں کہا جائے کہ غیر کفو میں نکاح ہو گا ہی نہیں ۔
ترجمہ : ٩ روایت کی گئی ہے کہ امام محمد نے شیخین کے قول کی طرف رجوع کیا ہے ۔
تشریح : ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ امام محمد نے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے قول کی طرف رجوع کیا ہے ، یعنی وہ بھی یہ فر ما تے ہیں کہ عورت کے نکاح کر نے کے بعد نکاح مو قوف واقع نہیں ہو گا ، بلکہ مکمل نکاح ہو جائے گا ۔ کیونکہ وہ عاقلہ بالغہ ہے ۔