٣ وقال مالک والشافعی لاینعقد النکاح بعبارة النساء اصلاً لان النکاح یراد لمقاصدہ والتفویض الیہن مخل بہا ٤ الا ان محمدا یقول یرتفع الخلل باجازة الولی ٥ ووجہ الجواز انہاتصرفت فی خالص حقہا وہی من اہلہ لکونہا عاقلة ممیزةً ولہذا کان لہا التصرف فی المال ولہا اختیار
ہوگا ۔
نوٹ: اس وقت اس پر فتوی دیتے ہیں کہ بغیر ولی کے بھی نکاح ہو جائے گا۔کیونکہ لاکھوں عورتیں اس وقت بغیر ولی کے نکاح کر رہی ہیں۔اگر ان کے نکاح کو جائز قرار نہ دیں تو مشکل ہوگا۔البتہ غیر کفو میں شادی کی ہو تو ولیوں کو قاضی کے سامنے اعتراض کرنے کا حق ہوگا اور قاضی مناسب سمجھے تو اس نکاح کو توڑ دے۔
ترجمہ : ٣ امام شافعی اور امام مالک نے فر ما یا کہ عورتوں کے جملے سے تو بالکل نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا ، اس لئے کہ مقاصد نکاح کے لئے نکاح کیا جا تا ہے اور عورتوں کو سونپنا مقاصد نکاح میں خلل ڈالنا ہے ۔
تشریح : امام شافعی کی رائے ہے کہ عورت اگر نکاح کرے تو اس کی عبارت سے نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا ، مو سوعہ میں عبارت یہ ہے ۔ قال الشافعی: فأی امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فلا نکاح لھا لان النبی ۖ قال فنکاحھا باطل ۔ ( مو سوعة امام شافعی ،باب لا نکاح الا بولی ، ج عاشر ، ص ٣٩، نمبر ١٥٣٣٥) اس عبارت میں ہے عورت نکاح کرے تو وہ باطل ہے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ نکاح بہت سے مقاصد کے لئے منعقد کیا جا تا ہے ، اور عورتوں کو سپرد کر دیا جائے تو اس کے نا قصات عقل ہو نے کی وجہ سے وہ مقصد فوت ہو جائیں گے اس لئے اس کے نکاح کر نے سے نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا ۔ (٢) اوپر کی حدیث میں تھا٫ نکاحھا باطل ، کہ وہ نکاح کرے تو وہ باطل ہے اس لئے بھی نکاح نہیں ہو گا ۔ (٣) اس حدیث میں بھی ہے۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ لا تنکح المرأة المرأة و لا تنکح المرأة نفسھا ، قال ابو ھریرة کنا نعد التی تنکح نفسھا ھی الزانیة ۔ ( سنن بیہقی ، باب لا نکاح الا بولی ، ج سابع ، ص ١٧٨، نمبر ١٣٦٣٣) اس حدیث میں عورت کسی عورت کا بھی نکاح نہ کرائے اور خود اپنا نکاح بھی نہ کرے ۔
ترجمہ : ٤ مگر امام محمد فر ما تے ہیں کہ ولی کی اجازت سے خلل اٹھ جائے گا ۔
تشریح : امام محمد نے فرما یا کہ عورت کا نکاح موقوف رہے گا ، پس اگر ولی نے اجازت دی تو نکاح باقی رہے گا اور اس نے انکار کر دیا تو نکاح ٹوٹ جائے گا ۔کیونکہ حدیث کی بنا پر اس کو نکاح توڑنے کا حق ہے ۔
ترجمہ : ٥ نکاح جائز ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ عورت نے اپنے خالص حق میں تصرف کیا ہے اور وہ تصرف کا اہل ہے ، اس لئے