ما ذکر الطحاوی قول ابی حنیفة وماذکر فی الاصل قولہما ٣ ووجہ المذکور فی الاصل ان السنة ان یفصل بین کل طلاقین بحیضة والفاصل ہٰہنا بعض الحیضة فتکمل بالثانےة ولاتتجزی فتتکامل واذا تکاملت الحیضة الثانےة فالطہر الذی یلیہ زمان السنة فامکن تطلیقہا علی وجہ السنة ٤ وجہ القول الاٰخر ان اثر الطلاق قد انعدم بالمراجعة فصار کانہ لم یطلقہا فی الحیض فیسن تطلیقہا فی الطہر الذی یلیہ (١٧٤٠) ومن قال لامرأتہ وہی من ذوات الحیض وقد دخل بہا انت طالق ثلٰثا للسنة ولا نےة لہ فہی طالق عند کل طہر تطلیقة ) ١ لان اللام فیہ للوقت ووقت السنة طہر لا جماع
امام طحاوی نے ذکر کیا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے ، اور جو اصل میں ذکر کیا وہ صاحبین کا قول ہے ۔ ۔
تشریح : امام طحاوی نے ذکر کیا ہے کہ اسی طہر میں طلاق دے جو پہلے حیض کے بعد ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق دے کر رجعت کر لیا تو گویا کہ وہ طلاق ہی نہیں رہی تو اب حیض کے بعد جو طہر آئے اس میں طلاق دے سکتا ہے ۔
ترجمہ: ٣ اصل میں جو ذکر ہے اس کی وجہ یہ ہے ۔ سنت یہ ہے کہ دو طلاقوں کے درمیان ایک حیض سے فصل کرے ، اور یہاں فصل کر نے والا بعض حیض ہے اس لئے دوسرے حیض سے پورا کیا جائے گا ، اور حیض میں تجزی نہیں ہو سکتی اس لئے پورا کیا جائے گا ، اور جب دوسرے حیض سے پورا کیا گیا تو وہ طہر جو اس کے بعد آئے وہ سنت کا زمانہ ہے اس لئے سنت کے طریقے پر اس کو طلاق دینا ممکن ہے ۔
تشریح : کتاب الاصل میں ہے کہ دوسرے حیض کے بعد دوسری طلاق دے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت یہ ہے کہ دو طلاقوں کے درمیاں ایک حیض کا فصل ہو اور پہلے ایک حیض نہیں ہے بعض حیض ہی ہے اس لئے اگلے حیض سے اس کو پورا کیا جائے گا اور اگلے حیض میں ٹکڑا تو ہو نہیں سکتا اس لئے اس حیض کے بعد جو طہر ہے اس میں طلاق دینا سنت ہو گا ۔
ترجمہ: ٤ اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے کہ رجعت کر نے کی وجہ سے پہلی طلاق کااثر ختم ہو گیا تو گویا کہ حیض میں طلاق ہی نہیں دیا اس لئے وہ طہر جو اس کے بعد متصل ہے اس میں طلاق دینا سنت ہو گا۔
تشریح : دوسرے قول یعنی امام طحاوی کے قول کی وجہ یہ ہے کہ جب طلاق سے رجعت کر لی تو گویا کہ وہ طلاق ہی نہیں رہی اس لئے اس حیض کے بعد جو طہر ہے اس میں طلاق دینا سنت ہو گا ۔
ترجمہ: (١٧٤٠)کسی نے اپنی عورت سے کہا حال یہ کہ وہ حیض والی ہو اور اس سے صحبت کر چکا ہو کہ تمکو سنت کے طور پر تین طلاقیں ہیں ، اور اس کی کوئی نیت نہیں تھی تو ہر طہر میں ایک طلاق واقع ہو گی ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ لام اس میں وقت کے لئے ہے ، اور سنت کا وقت ایسا طہر ہے جس میں جماع نہ کیا ہو ۔