Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

361 - 465
(١٧٣٩)قال فاذا طہرت وحاضت ثم طہرت فان شاء طلقہا وان شاء امسکہا ) ١ قال وہکذا ذکر فی الاصل ٢ وذکر الطحاوی  انہ یطلقہافی الطہر الذی یلی  الحیضة الاولی قال ابوالحسن الکرخی 

طلاق کا اثر عدت ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے گناہ کو ختم کیا جائے اور اس کے اثرات کو بھی ختم کیا جائے ، اب طلاق تو واقع ہوچکی ہے اس لئے وہ ختم نہیں ہو گی ، البتہ اس کا اثر یعنی عدت رجعت کر نے سے ختم ہو جائے گی ، اور گناہ کا اثر ختم کر نا واجب ہے اس لئے رجعت کر نا بھی واجب ہو ناچا ہئے ]٣[ تیسری دلیل یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے عدت لمبی ہو گی جو عورت کے لئے ضرر ہے ، اور دوسرے کے ضرر کو دور کر نا واجب ہے اس لئے رجعت کر کے ضرر دور کر نا واجب ہو گا ۔
  ترجمہ:  (١٧٣٩)  پس جب پاک ہو جائے اور حائضہ ہو جائے پھر پاک ہو جائے  پس اگر چا ہے تو طلاق دے اور چا ہے تو روک لے ۔ 
 ترجمہ:   ١  مصنف فر ماتے ہیں کہ مبسوط میں ایسے ہی ذکر کیا ہے ۔
تشریح:  متن میں یہ ہے کہ جس حیض میں طلاق دی ہے اور اس میں رجعت کیا ہے ، اس حیض کے بعدطہر آئے ، اس کے بعد پھر حیض آئے اور اس حیض کے بعد طہر آئے تو اس میںچا ہے تو دوسری طلاق دے اور چا ہے تو پہلے سے رجعت کی ہوئی ہے اس لئے بیوی کو روکے رکھے، تاہم پہلے حیض کے بعد جو طہر آیا ہے اس میں طلاق نہ دے کیونکہ وہ سنت کے خلاف ہے کتاب الاصل میں یہی ہے ۔میرے پاس جو کتاب الاصل ہے اس میں نکاح طلاق کا باب ہی نہیں ہے ۔  
وجہ :   (١) اوپر حدیث میں یہی گزری کہ حیض کے بعد طہر ، پھر حیض کے بعد طہر آئے اس میں دوسری طلاق دیں ، حدیث یہ ہے   عن عبد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ وھی حائض علی عہد رسول اللہ ۖ فسأل عمر بن الخطاب رسول اللہ عن ذلک فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ثم لیمسکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدة التی امر اللہ ان یطلق لھا النساء ۔ (بخاری شریف، باب قول اللہ تعالی( یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحسوا العدة) ،]سورة الطلاق ٦٥ [ص ٧٩٠، نمبر ٥٢٥١ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیررضاھا، ص ٤٧٥، نمبر ٣٦٥٢١٤٧١) اس حدیث میں ہے کہ دوسری طہر کے اندر طلاق دے ۔ (٢) سنت یہ ہے کہ دو طلاقوں کے درمیان ایک حیض کا فاصلہ ہو ، اور یہاں حیض کے درمیان طلاق دی ہے تو اس کا بعض حصہ ہی باقی رہا اب اس کے بعد والے طہر میں طلاق دے گا تو دو طلاقوں کے درمیان پورا حیض نہیں ہو گا اور نہ پورا طہر ہو گا اس لئے اگلے حیض کے بعد طلاق دے گا تو ایک حیض مکمل ہو جائے گا اس لئے دوسرے حیض کے بعد ہی طلاق دے ۔ 
 ترجمہ:  ٢  اور طحاوی  نے ذکر کیا ہے کہ اسی طہر میں طلاق دے جو حیض سے متصل ہے ، امام ابو الحسن کرخی  نے ذکر کیا ہے کہ جو 

Flag Counter