(١٧٣٨) ویستحب لہ ان یراجعہا ) ١ لقولہ علیہ السلام لعمر مر ابنک فلیراجعہا وقد طلقہا فی حالة الحیض وہذا یفید الوقوع والحث علی الرجعة ٢ ثم الاستحباب قول بعض المشائخ والاصح انہ واجب عملا بحقیقة الامر ورفعا للمعصےة بالقدر الممکن برفع اثرہ وہی العدة ودفعا لضرر تطویل العدة
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ حیض کے زمانے میں طلاق اس لئے ممنوع ہے کہ عورت کی عدت لمبی ہو جائے گی ، اس لئے ذات کے اعتبار سے طلاق واقع ہو نا مشروع ہے ۔
ترجمہ: (١٧٣٨) اور مستحب ہے کہ عورت سے رجعت کر لے ۔
ترجمہ: ١ حضرت عمر کو فر ما یا کہ اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ رجعت کر لے حال یہ کہ اس نے حیض کی حالت میں طلاق دی تھی ، اور رجعت کر نے کا حکم دینا طلاق واقع ہو نے کا فائدہ ہو تا ہے ، اور رجعت کر نے پر ترغیب بھی ہے ۔
تشریح : ۔ حیض کی حالت میں طلاق دے تو واقع ہو جائے گی ، لیکن مستحب یہ ہے کہ رجعت کر لے ، کیوںکہ حضرت عبد اللہ ابن عمر نے حیض کی حالت میں طلاق دی تھی تو حضور ۖ نے حضرت عمر سے فر ما یا تھا کہ اپنے بیٹے کو کہوکہ رجعت کر لے ، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ طلاق واقع ہو جائے گی تب ہی تو رجعت کر نے کا حکم دیا ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ رجعت کر لینے کی ترغیب دی ۔
وجہ : (١) صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ وھی حائض علی عہد رسول اللہ ۖ فسأل عمر بن الخطاب رسول اللہ عن ذلک فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ثم لیمسکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدة التی امر اللہ ان یطلق لھا النساء ۔ (بخاری شریف، باب قول اللہ تعالی( یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحسوا العدة) ،]سورة الطلاق ٦٥ [ص ٧٩٠، نمبر ٥٢٥١ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیررضاھا، ص ٤٧٥، نمبر ٣٦٥٢١٤٧١) اس حدیث میں ہے کہ رجعت کر لینی چا ہئے ۔
ترجمہ: ٢ پھر استحباب بعض مشائخ کا قول ہے ، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ واجب ہے حقیقت امر پر عمل کرتے ہوئے ، اور بقدر ممکن معصیت کو دور کرنے کے لئے طلاق کے اثر کو اٹھا کر اور وہ عدت ہے ، اور عدت کے لمبے ہو نے کے ضرر کو دفع کرنے کے لئے ۔
تشریح : بعض مشائخ کا قول ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق کے بعد رجعت کر نا مستحب ہے ، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ رجعت کر نا واجب ہے اس کی تین وجہ بیان کر رہے ہیں ]١[ حدیث میں امر کا صیغہ استعمال فرما یا ہے۔ فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ۔اور امر وجوب کے لئے آتا ہے اس لئے رجعت کر نا واجب ہوگا ۔]٢[ حیض کی حالت میں طلاق دیناگناہ ہے اور اس