Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

359 - 465
وہو مرجو فیہا فی کل زمان ولا یرجی مع الحبل  (١٧٣٧) واذا طلق الرجل امرأتہ فی حالة الحیض وقع الطلاق ) ١ لان النہی عنہ لمعنی فی غیرہ وہو ما ذکرنا فلا ینعدم مشروعیتہ 

علامت بن سکتی ہے اور دلیل بن سکتی ہے ، بخلاف لمبے طہر والی کے اس لئے کہ اس کے حق میں علامت طہر ہے اور ہر زمانے میں اس کے آنے کی امید ہے ، اور حمل کے ساتھ طہر کی امید نہیں ۔ 
تشریح :  امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کی دلیل یہ ہے کہ طلاق دینا حاجت کی وجہ سے ہے اور حاملہ  کے حق میں بھی مہینہ حاجت کی دلیل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسکی فطرت سلیم ہو وہ ایک مہینے میں جماع کر نا چا ہتا ہے اس لئے ایک مہینہ دلیل الحاجة ہے ، اور اس وقت طلاق دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ضرورت کی وجہ سے طلاق دے رہا ہے ، بخلاف جسکی طہر لمبی ہو گئی ہو اس کے لئے ہر وقت امید ہے کہ حیض واپس آجائے اس لئے ایک مہینہ اس کے لئے حاجت کی دلیل نہیں ہے، اور حاملہ میں یہ امید نہیں ہے کہ حیض واپس آجائے اس لئے ایک مہینہ حاجت کی دلیل ہے۔
لغت:   دلیل الحاجة: ایک مہینے میں رغبت تیز ہو تی ہے اس وقت جماع کے بجائے طلاق دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو اتنی نفرت ہے کہ اس کو طلاق دیکر اس سے جان چھڑانا چا ہتے ہیں ، اسی کو ٫دلیل الحاجة ، کہتے ہیں ۔آئسة: جو عورت بڑھاپے کی وجہ سے حیض سے مایوس ہو گئی ہو ۔ ممتد الطہر : جس عورت کو سال سال بھر حیض نہ آتا ہو اس کو ممتد الطہر ، کہتے ہیں ۔الجبلة السیلمة : جسکی فطرت سلیم ہو ۔علما : علامت ۔مرجو: رجی سے مشتق ہے ، جسکی امید کی گئی ہو ۔
 ترجمہ:  (١٧٣٧)اگر مرد اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدے تو طلاق واقع ہوگی۔
وجہ :   (١) حیض کی حالت میں طلاق دے تو واقع ہو جائے گی، کیونکہ طلاق کا مدار بیوی ہو نا ہے اور وہ بیوی ہے اس لئے طلاق واقع ہو گی ، البتہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے عدت لمبی ہو گی اس لئے حیض کی حالت میں طلاق نہیں دینی چا ہئے (٢)اس حدیث میں ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی ۔   سمعت ابن عمر قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی ۖ فقال لیراجعھا قلت تحتسب ؟ قال فمہ ؟ ۔ (بخاری شریف ، باب اذا طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٢ مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٥٨١٤٧١ ترمذی شریف ،نمبر١١٧٥ ابو داؤد شریف ،نمبر ٢١٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق شمار کی جائے گی۔اور اگر رجعت نہیں کرے گا تو عدت گزار کر بائنہ ہو جائیگی۔
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ طلاق سے جو روکا گیا ہے وہ کسی دوسری وجہ سے ہے ، جس کو ہم نے ذکر کیا اس لئے اس کی مشروعیت ختم نہیں ہو گی ۔ 
 
Flag Counter