Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

358 - 465
٢ وقال محمد لا یطلقہا للسنة الا واحدة لان الاصل فی الطلاق الحظر وقد ورد الشرع بالتفریق علی فصول العدة والشہر فی حق الحامل لیس من فصولہا فصار کالممتدة طہرہا ٣ ولہما ان الاباحة لعلة الحاجة والشہر دلیلہا کما فی حق الاٰئسة والصغیرة وہذا لانہ زمان تجدد الرغبة علی ما علیہ الجبلة السلیمة فصلح علماً ودلیلاً بخلاف الممتدة طہرہا لان العلم فی حقہا انما ہو الطہر 

ماہ کے بعد دے،فورا نہ دے۔  
وجہ:   (١)اس کو حیض تو آتا نہیں ہے کہ حیض کا انتظار کرے۔اس لئے آئسہ کی طرح ایک ماہ ایک طہر کے قائم مقام ہو گا ، اس لئے ایک ماہ کے بعد دوسری طلاق دے(٢) اثر میں ہے۔قلت للزھری اذا اراد ان یطلقھا حاملا ثلاثا کیف ؟ قال علی عدة اقرائھا ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق الحامل، ج سادس، ص٢٣٩ ،نمبر١٠٩٧٥ مصنف ابن ابی شیبة ،باب ٣ ماقالوا فی الحامل کیف تطلق ،ج رابع، ص ٥٨، نمبر ١٧٧٤٤ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ میں ایک طلاق دے۔
 ترجمہ:   ٢  اور کہا امام محمد نے نہیں طلاق دے سنت کے طریقے پر مگر ایک، اس لئے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے ، اور شریعت میں وارد ہوئی ہے کہ طلاق کو عدت کی فصلوں پر متفرق کرے ، اور مہینہ حاملہ کے حق میں فصول عدت میں سے نہیں ہے ، پس ایسا ہو گیا۔جیسا کہ وہ عورت جسکا طہر لمبا ہو گیا ہو ۔
تشریح :  امام محمد  فر ما تے ہیں کہ حاملہ عورت کو سنت کے طریقے پر تین طلاق دینا چاہیں تو تین نہیں دے سکتے ایک ہی دینا پڑے گا اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ طلاق میں اصل تو ممانعت ہے ، اور شریعت میں آئسہ کے لئے مہینے کو حیض کے قائم مقام کیا گیا ہے، حاملہ کے حق میں مہینے کو حیض کو قائم مقام نہیں کیا گیا اس لئے کہ اس کو تو حیض ہی نہیں آتا، تو جس طرح جس عورت کا طہر ایک سال لمبا ہو جائے تو اس کو ایک سال کے بعد دوسری طلاق دی جائے گی اسی طرح اس کو  وضع حمل تک طلاق نہیں دی جا سکے گی۔   
 وجہ  :  (١) اس کی عدت وضع حمل کے بعد ایک ہی مرتبہ ختم ہوگی ۔اس لئے ایک ہی طلاق دے سکتا ہے(٢) طلاق دینا مبغوض ہے اس لئے زیادہ طلاق دینااچھا نہیں ہے۔اس لئے ایک ہی پر اکتفا کرے (٣) اثر میں ہے۔عن الحسن قال لاتزاد الحامل علی تطلیقة حتی تضع فاذا وضعت فقد بانت منہ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق الحامل، ج سادس، ص٢٣٩ نمبر ١٠٩٧٧ مصنف ابن ابی شیبة باب ٣ ماقالوا فی الحامل کیف تطلق؟ ج رابع، ص ٥٨، نمبر ١٧٧٤٠)  اس اثر میں ہے کہ ایک طلاق دے اور اسی سے وضع حمل کے وقت بائنہ ہو جائے گی ۔ 
 ترجمہ:  ٣  امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کی دلیل یہ ہے کہ طلاق کا مباح ہو نا ضرورت کی وجہ سے ہے اور مہینہ ضرورت کی دلیل ہے جیسا کہ آئسہ اور چھوٹی کے حق میں ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ رغبت کے نیا ہو نے کا زمانہ ہے جیسا کہ فطرت سلیم ہے اس لئے مہینہ 

Flag Counter