Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

357 - 465
 (١٧٣٥) وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع ) ١ لانہ لا یؤدی الی اشتباہ وجہ العدة وزمان الحبل زمان الرغبة  فی الوطی لکونہ غیر معلق او فیہا لمکان ولدہ منہا فلا یقل الرغبة بالجماع  
(١٧٣٦) ویطلقہا للسنة ثلثا یفصل بین کل تطلیقتین بشہر ) ١ عند ابی حنیفة وابی یوسف 

ہے اسی طرح یہاں حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے اس لئے فورا طلاق دے سکتا ہے ۔ 
لغت :   تفتر:  جماع کرنے کی طبیعت سست پڑ جا نا ۔معلق : علق سے مشتق ہے ، حمل ٹھہرنا ۔مؤن: خرچہ برداشت کر نا ۔  
 ترجمہ:   (١٧٣٥) جائز ہے حاملہ عورت کو طلاق دینا جماع کے بعد۔  
تشریح:   بیوی حاملہ ہے اس سے جماع کیا اور جماع کے فورا بعد طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ ایک ماہ کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔
  وجہ:  (١)  حاملہ عورت سے جماع کے بعد دوسرا حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے۔کیونکہ رحم کا منہ بند ہے۔ اس لئے جماع کی رغبت ہر وقت ہے اس لئے اس وقت طلاق دینا دلیل الحاجة ہے۔ اس لئے جماع کے بعد فورا طلاق دے سکتا ہے (٢) اثر میں ہے۔عن الحسن و محمد قالا اذا کانت حاملا طلقھا متی شائ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ،باب ٣ ما قالوا فی الحامل کیف تطلق ،ج رابع ،ص ٥٨، نمبر ١٧٧٤٢ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کو جماع کے فورا بعد طلاق دے سکتا ہے۔
 ترجمہ:   ١   اس لئے کہ عدت کے مشتبہ ہو نے کی طرف نہیں پہونچائے گا ، اور حمل کا زمانہ وطی میں رغبت کا زمانہ ہے اس لئے کہ حمل ٹھہرنے والا نہیں ہے ، یا اس وجہ سے کہ اس میں بچہ ہے اس لئے جماع کی وجہ سے رغبت کم نہیں ہو گی ۔ 
تشریح :  حاملہ عورت کو جماع کے بعد فورا طلاق دے سکتا ہے اس کی تین وجہ بیان کی جا رہی ہے ]١[ اندر حمل ہے اس لئے دوسرا حمل نہیں ٹھہر سکتا اس لئے عدت مشتبہ نہیں ہے ایک ہی عدت وضع حمل طے ہے اس لئے جماع کے بعد فورا طلاق دے سکتا ہے ]٢[دوسری وجہ یہ بیان کر رہے ہیں کہ اس وطی سے دوسرا حمل نہیں ٹھہرے گا ، کیونکہ اندر حمل ہے اس لئے ہر وقت وطی کی رغبت ہے ، اس لئے طلاق کی بھی دلیل الحاجة ہے ۔ ]٣[ تیسری وجہ یہ ہے کہ اندر شوہر کا بچہ پل رہا ہے اس لئے جماع کی وجہ سے عورت سے رغبت کم نہیں ہو ئی ہے ، اس لئے بھی طلاق دینا دلیل الحاجة ہے اس لئے اس وقت طلاق دے سکتا ہے ۔ 
ترجمہ:  (١٧٣٦) حاملہ کو طلاق دے سنت کے مطابق تین اور فصل کرے ہر دو طلاقوں میں ایک مہینے کا
ترجمہ:    ١   شیخین کے نزدیک۔
تشریح:  حاملہ عورت کو سنت کے طریقے پر طلاق دینا چاہے تو شیخین کے نزدیک تین طلاقیں دے سکتا ہے۔ البتہ آ ئسہ کی طرح ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینہ کا فصل کرے یعنی ایک طلاق کے بعد دوسری طلاق ایک ماہ کے بعد دے۔اور تیسری طلاق پھر ایک 

Flag Counter