Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

356 - 465
٢ ولنا انہ لا یتوہم الحبل فیہما والکراہےة فی ذوات الحیض باعتبارہ لان عند ذلک یشتبہ وجہ العدة ٣  والرغبة وان کانت تفتر من الوجہ الذی ذکرلکن تکثر من وجہ اٰخر لانہ یرغب فی وطی غیر معلق فرارا عن مؤن الولد فکان الزمان زمان الرغبة فصار کزمان الحبل 

کہ جماع سے رغبت سست پڑ جاتی ہے تو تازہ ہو گی کچھ زمانے کے بعد اور وہ ایک مہینہ ہے ۔ 
 تشریح:  امام زفر  فر ما تے ہیں کہ جس عورت کو حیض نہیں آتا ہو اس سے وطی کر لیا ہے تو اس کے ایک ماہ کے بعد طلاق دے ، فورا طلاق نہ دے ۔
وجہ :   (١) اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیںکہ اگر یہ حیض والی ہو تی تو اگلے طہر میں طلاق سنت دی جاتی جو تقریبا ایک مہینہ ہے، پس اس عورت کے ساتھ بھی ایک مہینہ کا وقفہ کیا جائے کیونکہ ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے  (٢) دوسری وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ  پیچھے گزر چکا ہے کہ طلاق دلیل الحاجة کے وقت دینی چا ہئے ، یعنی طلاق اس وقت دینی چا ہئے جب جماع کی رغبت ہو ، اور یہاں جماع کر نے کی وجہ سے رغبت سست ہو گئی ہے اس لئے ایک ماہ ٹھہرے تاکہ رغبت تازہ ہو جائے ۔ 
 ترجمہ:   ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ ان دو نوں میں حمل کا احتمال نہیں ہے ، اور حیض والی میں کراہیت حمل کی وجہ سے ہے اس لئے کہ اس وقت عدت کا طریقہ مشتبہ ہو جائے گا ۔ 
تشریح :  ہماری دلیل یہ ہے کہ جنکو حیض آتا ہے اس کو جماع کے بعد فورا طلاق دے گا تو پتہ نہیں چلے گا کہ اس کو حمل ٹھہر چکا ہے یا نہیں ، اور اس کی عدت کیا ہو گی ، تین حیض یا وضع حمل ، اب اس اشتباہ کی وجہ سے وطی کے فورا بعد طلاق دینا ممنوع ہے ۔اور جو عورت بڑھاپے کی وجہ سے مایوس ہو گئی ہو یا بہت چھوٹی ہو نے کی وجہ سے حیض نہیںآتا ہو ان دو نوں کوحمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے ، اس لئے جماع کے بعد فورا طلاق دے سکتا ہے ، اور طے ہے کہ اس کی عدت تین مہینہ ہے ۔
 ترجمہ:  ٣  اور رغبت اگر چہ اس طریقے سے سست ہو چکی ہے لیکن دوسرے طریقے سے زیادہ ہوتی ہے ، کیونکہ مرد ایسی وطی میں رغبت کرتا ہے جو حمل رکھنے والی نہ ہو بچہ کے بوجھ سے بھاگنے کے لئے ، اس لئے یہ زمانہ رغبت کا زمانہ ہے ، اور ایسا ہو گیا کہ حمل کا زمانہ ہو ۔ 
تشریح :   امام زفر  نے فر ما یا تھا کہ جماع سے رغبت کم ہو گئی ہے اس لئے ایک ماہ کے بعد طلاق دے جبکہ رغبت تازہ ہو جائے ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ دوسرے اعتبار سے رغبت تیز ہے ، کیونکہ آدمی اس وطی سے بھاگتا ہے جس سے حمل ٹھہر جائے اور بچے سنبھالنے کا بوجھ سر پر آپڑے اور اس میں حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے اس لئے ہر وقت جماع کر نا چا ہتا ہے ،اس لئے وطی کے بعد طلاق دینا دلیل الحاجة ہے ۔ اور جس طرح حمل  کے وقت دوسرا حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں رہتا اسلئے وطی کے بعد فورا طلاق دے سکتا 

Flag Counter