٤ وعند ہما یکمل الاول بالاخیر والمتوسطان بالاہلة وہی مسألة الاجارات (١٧٣٤)قال ویجوز ان یطلقہا ولا یفصل بین وطیہا وطلاقہا بزمان ) ١ وقال زفر یفصل بینہما بشہر لقیامہ مقام الحیض ولان بالجماع تفتر الرغبة وانما تتجدد بزمان وہو الشہر
تب دے ، اور تیسری طلاق بھی چاند نظر آنے پر دے ، اور اسی طرح عدت بھی چاند ہی سے پوری کی جائے گی ، چا ہے مہینہ ٢٩ کا ہو یا ٣٠ کا ہو، یہ مسئلہ بالاتفاق ہے ۔اور اگر مہینے کے بیچ میں طلاق دی تو تینوں طلاق کا موقع دن سے گنا جائے گا اور تمام مہینے ٣٠ دن کا گنا جائے گا ، اور ٩٠ دنوں میں طلاق بھی پوری ہو گی اور عدت بھی پوری ہو گی ۔ ، مثلا ١٥ تاریخ کو طلاق دی تو ٣٠ دن گزر جانے کے بعددوسری طلاق دے ، اور پھر ٣٠ دن گزر جا نے کے بعد تیسری طلاق دے ، اور پھر ٣٠ دن گزر جا نے کے بعد عدت گزر جائے گی۔چا ہے مہینہ ٢٩ کا ہو یا ٣٠ کا ہو ۔اس عبارت میں تفریق سے مراد ہے تفریق کر کے تین مہینوں میںطلاق دینا ۔
ترجمہ: ٤ اور صاحبین کے نزدیک پہلی عدت کو آخیر کے ساتھ پوری کی جائے گی ، اور درمیان میں چاند سے ، اور یہ اجارات کامسئلہ ہے ۔
تشریح: صاحبین کے یہاں عدت کے بارے میں یہ ہے کہ پہلا مہینہ آخیر کے ساتھ ملا کر پورا کیا جائے گا ، اور درمیانی ماہ چاند کے ساتھ پورا کیا جائے گا ، چا ہے مہینہ ٢٩کا ہو یا ٣٠ کا ۔مثلا کسی نے ١٥ تاریخ کو طلاق دی تو ٢٩ تاریخ کو یا ٣٠ تاریخ کو جب چاند نظر آیا اس وقت سے مہینہ دوسرا مہینہ شروع ہوجائے گا ، اور اسی طرح چاند نظر آنے پر تیسرا مہینہ شروع ہو گا ، اور چاند نظر آنے پر ختم ہو گا اور پہلے ١٥ کو آخیر کے ساتھ ملا کر ایک مہینہ ٣٠ کا پورا کیا جائے گا ۔ یہ مسئلہ کتاب الاجارات کا ہے وہاں بھی اسی طرح کا اختلاف ہے ، اور اسی طرح امام ابو حنیفہ کے یہاں ٩٠ دن سے اور صاحبین کے یہاں شروع اور آخیر کو دن سے اور درمیانی ماہ کو چاند سے پورا کیا جائے گا ۔
ترجمہ: (١٧٣٤) اور جائز ہے کہ اس کو طلاق دے۔اور وطی اور طلاق کے درمیان زمانے سے فصل نہ کرے۔
تشریح : جس عورت کو حیض نہیں آتا ہے اس سے وطی کرے اور فورا طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔حیض والی عورت کی طرح نہیں ہے کہ وطی کرنے کے بعد حیض آئے،رحم صاف ہو پھر اگلے طہر آئے تب طلاق دے ۔
وجہ : چونکہ حیض نہیں آتا ہے اس لئے حمل ٹھہرنے کا سوال نہیں ہے ۔کیونکہ جس کو حیض کا خون آتا ہو اسی کو حمل ٹھہرتا ہے۔اور حیض اور اگلے طہر کا انتظار اس لئے کرتے تھے کہ حیض کی وجہ سے رحم صاف ہو جائے اور یہاں حمل ٹھہرنے کا امکان نہیں ہے اس لئے جماع کے فورا بعد طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ترجمہ: ١ امام زفر نے فر ما یا کہ وطی اور طلاق کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ کرے ، کیونکہ مہینہ حیض کے قائم مقام ہے ، اور اس لئے