١ لان الشہر فی حقہما قائم مقام الحیض قال اللہ تعالی واللائی یئسن من المحیض الی ان قال واللائی لم یحضن ٢ والاقامة فی الحیض خاصی یقدر الاستبراء فی حقہما بالشہر وہو بالحیض لا بالطہر ٣ ثم ان کان الطلاق فی اول الشہر یعتبر الشہور بالاہلة وان کان فی وسطہ فبالایام فی حق التفریق و فی حق العدة کذلک عند ابی حنیفة
عبد الرزاق ، باب طلاق التی لم تحض، ج سادس، ص٢٦٩ ،نمبر١١١٥٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ میں ایک طلاق دے۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ مہینہ ان دو نوں کے حق میں حیض کے قائم مقام ہے ، اللہ تعالی نے فر ما یا جو عورتیں حیض سے مایوس ہو گئیں۔تو انکی عدت تین مہینے ہیں ۔
تشریح: جن عورتوں کو حیض نہیں آتا انکے لئے ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے، تو گویا کہ تین حیض کو تین مہینے کے قائم مقام قرار دیا اس لئے جسکو تین طہر میں تین طلاقیں دینی ہو وہ ہر مہینے میں ایک طلاق دے دے ، سنت ادا ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٢ اور قائم کر نا حیض میں خاص طور پر یہاں تک کہ استبراء مقدر کیا گیا ان دونوں کے حق میںمہینے سے ، اور وہ حیض سے ہے نہ کے طہر سے ۔
تشریح: یہاں یہ بتا نا چا ہتے ہیں کہ مہینہ صرف حیض کے قائم مقام ہے ، طہر کے قائم مقام نہیں ہے ، اور حیض اور طہر دو نوں کے قائم مقام بھی نہیں ہے ، اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ کسی نے باندی خریدی اور اس کو حیض نہ آتا ہو تو ایک مہینہ گزار کر اسبراء کرے گا، اور استبراء حیض سے ہو تا ہے طہرسے نہیں ہو تا ، اس سے معلوم ہوا کہ مہینہ حیض کے قائم مقام ہے ، طہر اور حیض دو نوں کے قائم مقام نہیں ہے ۔ ]٢[ خود آیت میں مہینے کو حیض کے قائم مقام کیا گیا ہے۔ والّائی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتھن ثلثة اشھر۔و الّلاتی لم یحضن (آیت ٤ سورة، الطلاق ٦٥) اس آیت میں تین حیض کو تین مہینے قرار دیئے۔جس سے معلوم ہوا کہ ہر ماہ ایک حیض کے درجے میں ہے۔
لغت: استبرائ:باندی خریدے ، یا باندی ایک ملک سے دوسرے کی ملک میں منتقل ہو تو فورا وطی نہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پہلے مالک کا حمل اندر ہو ، بلکہ ایک حیض گزرنے دے جس سے معلوم ہو جائے گا کہ اندر حمل نہیں ہے ، پھر وطی کرے ، اس کو٫ استبراء ،کہتے ہیں ۔
ترجمہ: ٣ پھر اگر طلاق مہینے کے شروع میں ہو تو مہینے کو چاند سے شمار کیا جائے گا اور اگر درمیان میں ہو تو تفریق کے حق میں دن کے ساتھ ، اور عدت کے حق میں بھی ایسے ہی دن کے ساتھ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔
تشریح: چاند نظر آنے سے ایک دن پہلے طلاق دی تو اب طلاق دینے کا وقت چاند سے شروع ہو گا ، اور اگلی طلاق چاند نظر آئے