Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

352 - 465
 ١ لان المراعی دلیل الحاجة وہو الاقدام علی الطلاق فی زمان تجدد الرغبة وہو الطہر الخالی عن الجماع اما زمان الحیض فہو زمان النفرة و بالجماع مرة فی الطہر تفتر الرغبة (١٧٣٢) وغیر المدخول بہا یطلقہا فی حالة الطہر والحیض ) 

فسأل عمر بن الخطاب رسول اللہ ۖ عن ذلک فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ثم لیمسکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدة التی امر اللہ ان یطلق لھا النسائ۔ (بخاری شریف ، باب وقول اللہ تعالی یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحسوا العدة (آیت ١ سورة الطلاق ٦٥[،ص٧٩١، نمبر ٥٢٥١)  مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا ،ص ٤٧٦ ،نمبر ٣٦٥٢١٤٧١ ابو داؤد شریف، باب فی طلاق السنة، ص ٣٠٣ ،نمبر ٢١٧٩) اس حدیث میں ٫ قبل ان یمس،  سے معلوم ہوا کہ اس طہر میں طلاق دے جس میں بیوی کو چھویا نہ ہو یعنی جماع نہ کیا ہو۔
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ اس میں٫ دلیل الحاجة، کی رعایت ہے ، اور وہ ایسے زمانے میں طلاق کا اقدام کر نا ہے جبکہ جماع کی رغبت تازہ ہو جائے ، اور وہ طہر ہے جو جماع سے خالی ہو ، اس لئے کہ حیض کا زمانہ جماع سے نفرت کا زمانہ ہے ، اور طہر میں ایک مرتبہ جماع کر لیا ہو تو رغبت سست ہو جاتی ہے ۔ 
تشریح:  یہ دلیل عقلی ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دے جبکہ جماع کی رغبت زیادہ ہے ، یہ حاجت طلاق کی دلیل ہے ، اور مدخول بھا میں اسی کی رعایت کی گئی ہے ، کیونکہ حیض کے زمانے میں عورت سے جماع نہیں کر نا چا ہتا ، یہ نفرت کا زمانہ ہے ، اور طہر میں ایک مرتبہ جماع کر چکا ہو تو اب طبیعت سست ہو جاتی ہے، اس لئے جس طہر میں جماع نہ کیا ہو اس میں طلاق دیں ، اس سے پتہ چلے گا کہ  طلاق کھیل کے لئے نہیں دے رہا ہے بلکہ چھٹکارے کی ضرورت کی وجہ سے دے رہا ہے ۔ 
لغت:   تجدد الرغبة : رغبت تازہ ہو جاتی ہے ۔ تفتر الرغبة: فتر کا معنی ہے سست ہو نا ، تفتر الرغبة: رغبت سست ہو جاتی ہے ۔
 ترجمہ:  (١٧٣٢)  اور غیر مدخول بہا کو طلاق دے طہر کی حالت میں اور حیض کی حالت میں۔  
وجہ :   (١)چونکہ ابھی تک جماع نہیں کیا ہے اس لئے ہر وقت اس میں رغبت ہے ۔اس لئے حیض اور طہر دونوں حالتوں میں اس کو طلاق دے سکتا ہے (٢) جس کو عدت گزارنا ہو اس کے لئے طہر کا انتظار کیا جائے گا تاکہ عدت لمبی نہ ہو۔اور غیر مدخول بہا کو عدت نہیں گزارنی ہے اس لئے جب چاہے طلاق دیدے (٣) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔   عن الثوری فی رجل طلق البکر حائضا قال لا بأس بہ لانہ لا عدة لھا  (مصنف عبد الرزاق ، باب ھل یطلق الرجل البکر حائضا ،ج سادس، ص٢٤٦،نمبر١١٠١٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ غیر مدخول بہا کو حیض کی حالت میں طلاق دے سکتا ہے۔
 
Flag Counter