Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

351 - 465
(١٧٣٠) فالسنة فی العدد یستوی فیہا المدخول بہا وغیر المدخول بہا ) وقد ذکرناہا 
(١٧٣١) والسنة فی الوقت یثبت فی المدخول بہا خاصة و ہو ان یطلقہا فی طہر لم یجامعہا فیہ )  

ترجمہ :   (١٧٣٠)  پس عدد کی سنت میں مدخول بھا اور غیر مدخول بھا دونوں برابر ہیں۔
 ترجمہ :   ١  ہم نے اس کو پہلے ذکر کیا۔ 
 تشریح :  جس عورت سے صحبت کر چکا ہے سنت یہ ہے کہ اس کو بھی ایک ہی طلاق دے۔اور جس عورت سے صحبت نہیں کی ہے اس کے لئے بھی سنت یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے۔بیک وقت تین نہ دے۔ اس سنت میں دونوں برابر ہیں۔
 جس عورت سے وطی نہ کی ہو اس کو یوں طلاق دے کہ ، تم کو طلاق دی ، تم کو طلاق دی ، تم کو طلاق دی ، یعنی تفریق کر کے تو پہلی طلاق واقع ہو گی ، اور اسی سے بائنہ ہو جائے گی ، دوسری اور تیسری طلاق کا محل باقی نہیں رہے گی ، اس لئے دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی ،اور چونکہ اس پر عدت نہیں ہے اس لئے عدت بھی گزارنی نہیں ہو گی ۔اور اگر یوں کہا تم کو تین طلاق ہیں]ایک ہی ساتھ [ تو اب تینوں طلاق واقع ہو جائے گی، اور بغیر حلالہ کے حلال نہیں ہو گی ۔ اور جس عورت سے وطی کی ہو اس کو کہا کہ ، تم کو طلاق دی ، تم کو طلاق دی ، تم کو طلاق دی ، یعنی تفریق کر کے تو  تینوں طلاق ہو جائے گی اور اب حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہو گی ، کیونکہ یہ تینوں کا محل ہے ۔ 
اصول :   مدخول بھا پر عدت ہے ۔ اور غیر مدخول بھا پر عدت نہیں ہے ، کیونکہ اس سے وطی ہی نہیں کی ہے تو عدت کس بات کی !  
وجہ:  اثر میںہے کہ ایک طلاق دینا سنت ہے ۔عن ابراہیم قال کانوا (الصحابة) یستحبون ان یطلقھا واحدة ثم یترکھا حتی تحیض ثلاث حیض ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٢ ما یستحب من طلاق السنة وکیف ھو ؟ ج رابع ص ٥  مصنف عبد الرزاق،باب وجہ الطلاق وھو طلاق العدة والسنة، ج سادس، ص ٢٣٨ ،نمبر١٠٩٦٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دینا سنت ہے۔
 ترجمہ :  (١٧٣١)  اور سنت وقت میں ثابت ہے مدخول بہا کے حق میں خاص طور پر اور وہ یہ ہے کہ ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ کی ہو۔ 
تشریح:   وقت کے اعتبار سے سنت کا اعتبار صرف مدخول بہابیوی کے ساتھ خاص ہے۔ کیونکہ غیر مدخول بہا کوتو جب چاہے طلاق دے چاہے حیض کا زمانہ ہو یا طہر کا زمانہ ہو۔اور اس کی شکل یہ ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وطی نہ کی ہو ۔
 وجہ:   (١)کیونکہ مدخول بہا کو حیض کے زمانے میں طلاق دینا بدعت ہے۔ اور جس طہرمیں جماع کیا ہو اس میں بھی طلاق دینا بدعت ہے (٢) اس حدیث میں ہے ۔  عن عبد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ وھی حائض علی عھد رسول اللہ 

Flag Counter