Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

350 - 465
٦ وکذا ایقاع الثنتین فی الطہر الواحد بدعة لما قلنا ٧ واختلفت الرواےة فی الواحدة البائنة قال فی الاصل انہ اخطأ السنة لانہ لا حاجة الی اثبات صفة زائدة فی الخلاص وہی البینونة وفی رواےة الزیادات انہ لا یکرہ للحاجة الی الخلاص ناجزا  (١٧٢٩) والسنة فی الطلاق من وجہین سنة فی الوقت وسنة فی العدد  )

تشریح :   یہ امام شافعی  کو منطقی جواب ہے ۔انہوں نے فر ما یا تھا کہ تمام طلاق مشروع ہیں تو ممنوع کے ساتھ جمع نہیںہو سکتے ، اس لئے کوئی طلاق ممنوع نہیں ،اس کا جواب دیا جا رہا ہے ۔یہاں رق کا معنی ہے نکاح جسکی وجہ سے عورت گویا کہ مرد کی باندی ہے ،اور جماع کرنے کے لئے دینے پر مجبور ہے ۔ اور ازالة الرق کا معنی ہے کہ طلاق دیکر نکاح توڑ دیا ، طلاق دیکر نکاح توڑنا ذات کے اعتبار سے مشروع ہے ، کیونکہ عورت سے غلامت]نکاح[ سے چھٹکارا ہے۔ لیکن اس سے مصلحت دینی اور مصلحت دنیاوی ختم ہو جاتی ہے اس لئے یہ حظر اور ممنوع ہے ، تو ذات کے اعتبار سے طلاق مشروع ہے ، اور غیر یعنی دوسری مصلحتوں کی بنا پر یہ ممنوع ہے ، اور یہ جائز ہے کہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہو اور غیر کے اعتبار سے ممنوع ہو ، ہاں ذات کے اعتبار سے مشروع ہو ، اور ذات ہی کے اعتبار سے ممنوع ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ 
ترجمہ :   ٦  ایسے ہی ایک طہر میں دو طلاق بدعت ہے ، اس دلیل کی وجہ سے جو بیان کیا ۔ 
تشریح:  دو طہر میں دو طلاق مسنون ہیں ، لیکن ایک ہی طہر میں دو طلاق کی ضرورت نہیں ہے ، اور طلاق بنفسہ محظور ہے اس لئے ایک طہر میں دو طلاق دینا بدعت ہے۔
 ترجمہ :   ٧  ایک طلاق بائنہ دینے میں اختلاف ہے ، اصل میں یہ کہا کہ سنت کے خلاف کیا اس لئے کہ چھٹکارہ میں زائد صفت کے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ بینونت ہے ، اور زیادات کی روایت میں کہا کہ مکروہ نہیں ہے جلدی چھٹکارے کی ضرورت کی بنا پر ۔ 
 تشریح :  ایک طہر میں طلاق رجعی دینی چا ہئے ، لیکن ایک طہر میں طلاق بائنہ دے اس بارے میں اختلاف ہے ۔ کتاب الاصل مبسوط میں یہ ہے کہ یہ سنت کے خلاف ہے اس لئے بائنہ کر نے کی ضرورت نہیں ہے ، اور زیادات کی روایت میں ہے کہ طلاق بائنہ دینا مکروہ نہیںہے اس لئے کہ بعض مرتبہ اتنی نفرت ہو جاتی ہے کہ رجعت نہیں کر نا چا ہتا ہے اور طلاق بائنہ دیکر بالکل الگ کر نا چا ہتا ہے اس لئے طلاق بائنہ دینے کی ضرورت ہے ۔نوٹ:۔کتاب الاصل میں کتاب النکاح ، اور کتاب الطلاق کا باب نہیں ہے ۔ 
  ترجمہ :  (١٧٢٩)  پس سنت طلاقیں دو طریقوں سے ہیں (١) وقت میں سنت (٢) اور عدد میں سنت۔  
تشریح:  وقت میں سنت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں طلاق دے کہ طہر ہو،حیض کا زمانہ نہ ہو اور صحبت نہ کی ہو۔اور عدد میں سنت یہ ہے کہ ایک طلاق دے۔بیک وقت تین طلاق نہ دے۔
 
Flag Counter