٣ ولنا ان الاصل فی الطلاق ہو الحظرلما فیہ من قطع النکاح الذی تعلقت بہ المصالح الدینےة والدیناوےة والاباحة للحاجة الی الخلاص ولا حاجة الی الجمع بین الثلث ٤ وہی فی المفرق علی الاطہار ثابتة نظراً الی دلیلہا والحاجة فی نفسہا باقےة فامکن تصویر الدلیل علیہا ٥ والمشروعےة فی ذاتہ من حیث انہ ازالة الرق لا تنافی الحظر لمعنی فی غیرہ وہو ما ذکرناہ
ترجمہ: ٣ ہماری دلیل یہ ہے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے اس لئے اس میں نکاح منقطع ہو جا تا ہے جس سے مصلحت دینی اور مصلحت دنیاوی متعلق ہیں ، اور طلاق کا مباح ہو نا چھٹکارے کی ضرورت کی وجہ سے ہے ، اور تین طلاقوں کو جمع کر نے کی ضرورت نہیں ہے ]اس لئے وہ حرام ہو گی [
تشریح: بیک وقت تین طلاق دینا کیوں حرام ہے اور تین طہر میں تین طلاق دینا کیوں سنت ہے اس کی دلیل دی جا رہی ہے۔ فر ماتے ہیں کہ اصل میں طلاق ممنوع چیز ہے ، کیونکہ اس سے نکاح منقطع ہو جا تا ہے جس پر دینی مصلحت کا مدار ہے، کہ زنا سے محفوظ رہتا ہے ، اور دنیوی مصلحت کا بھی مدار ہے ، کہ عورت کو نان و نفقہ مل جا تا ہے ، اور شوہر کو اولاد مل جاتی ہے ۔لیکن عورت کو چھٹکارا حاصل کر نا ہے اس لئے طلاق کو مباح قرار دے دیا گیا ، یہ چھٹکا را حاصل کر نے کی ضرورت ایک طلاق سے پوری ہو جاتی ہے اس لئے بیک وقت تین طلاق حرام ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور یہ تین طلاق تین طہر میں تفریق کر کے اس کی دلیل کی طرف نظر کرتے ہوئے ثابت ہے ، اور حقیقت میں ضرورت بھی باقی ہے اس لئے دلیل کو اس پر تصویر کر نا ممکن ہے ۔
تشریح : یہ عبارت پیچیدہ ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آدمی بیوی کی بد اخلاقی کی وجہ سے اتنی نفرت کر تا ہے کہ دو بارہ اس سے نہ رجعت کر نا چا ہتا ہے ، اور نہ اس سے نکاح کر نا چا ہتا ہے ، اس لئے تین طلاق دیتا ہے تاکہ حلالہ کے بغیر حلال نہ ہو ، اور عورت دو بارہ آنا بھی چا ہے تو نہ آسکے یا فیملی اس کو لانا بھی چا ہے تو نہ لا سکے ، اس لئے ایسے موقع پر تین طلاق دیتا ہے جبکہ اس کو طہر کے وقت جماع کی رغبت زیادہ ہو،اس لئے تین طہر میں تین طلاق کی ضرورت باقی ہے۔ یہ وہی دلیل الحاجة کی تفسیر ہے ۔
لغت: فامکن تصویر الدلیل علیھا : یہ ایک منطقی جملہ ہے ۔اس عبارت کا شایدمطلب یہ ہے کہ ہر طہر میں جماع کی رغبت تازہ ہو تی ہے اس لئے اس وقت عورت کو پورا چھٹکارا کر نے کی ضرورت پڑتی ہے ، اور اس کے لئے ظاہری کوئی سبب نہیں ہے تو طہر کو ہی رغبت کے تازہ ہو نے کی دلیل مان لی ۔ و اللہ اعلم ۔
ترجمہ: ٥ ذات کے اعتبار سے مشروع ہو ، اس طرح کہ رقیت کو زائل کر نا ہو ، وہ اس ممنوع کے منافی نہیں جو غیر کے اعتبار سے ممنوع ہو ، جسکو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے ۔