Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

348 - 465
  ١    وقال  الشافعی کل طلاق مباح لانہ تصرف مشروع حتی یستفاد بہ الحکم والمشروعےة لا تجامع الحظر ٢ بخلاف الطلاق فی حالة الحیض لان المحرم تطویل العدة علیہا لا الطلاق 

لیراجعھا قلت تحتسب قال فمہ؟ ۔ (بخاری شریف ، باب اذا طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق، ص ٧٤٠ ،نمبر ٥٢٥٢ مسلم شریف، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا الخ ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٦٧١٤٧١ دار قطنی ، کتاب الطلاق ،ج رابع ،ص ٤ ،نمبر ٣٨٤٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوگی۔
ترجمہ:   ١   امام شافعی  نے فر ما یا کہ ہر طلاق مباح ہے اس لئے کہ مشروع تصرف ہے ، یہاں تک کہ اس سے حکم مستفاد ہو تا ہے ، اور مشروعیت ممانعت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی ۔
 تشریح:   امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ طلاق بدعی کی جتنی شکلیں گزریں وہ بھی جائز ہیں، اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ طلاق بدعی دینے سے اس پر شریعت کا حکم لا گو ہو تا ہے ، اور قاعدہ یہ ہے کہ مشروع چیز ممنوع کے ساتھ جمع نہیں ہوتی ، پس اگر یہ ممنوع ہوتیں تو اس پر مشروع حکم نافذ نہیں ہو تا  اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تمام صورتیں مباح ہیں ۔موسوعہ میں عبارت یہ ہے۔   قال الشافعی:  اختار للزوج ان لا یطلق الا واحدة لیکون لہ الرجعة فی المدخول بھا ، و یکون خاطبا فی غیر المدخول بھا، و متی نکحھا بقیت لہ علیھا اثنتان من الطلاق۔ 
 و قال الشافعی: و لا یحرم علیہ ان یطلق اثنتین و لا ثلاثا؛ لان اللہ تعالی اباح الطلاق ، و ما اباح فلیس بمحظور علی اھلہ ۔( موسوعة امام شافعی  ، باب کیف اباحة الطلاق ،ج احدی عشر، ص ١١٤، نمبر ١٨٥١٦١٨٥١٥) اس عبارت میں ہے کہ ایک ہی طلاق دینا بہتر ہے ، البتہ دو یا تین طلاقیں دینا حرام نہیں ہے ، اس لئے کہ اللہ نے جو کچھ مباح کیا ہو وہ حرام کیسے ہو سکتا ہے ۔
لغت:   یستفاد الحکم : جس پر حکم لاگو ہو تا ہو، یا اس سے حکم حاصل کیا جا تا ہو۔ مشروع: وہ کام جو شریعت میں جائز ہے ۔ الحظر:  روکنا۔ممنوع چیز ۔  
ترجمہ:   ٢  بخلاف حیض کی حالت میں طلاق کے اس لئے کہ حرام عورت پر عدت لمبا ہونا ہے ، نہ کہ طلاق ۔ 
 تتشریح:   امام شافعی  پر اعتراض یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو تی ہے اور اس سے احکام مستفاد ہو تے ہیں پھر بھی وہ ممنوع ہے ، تو اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ، حیض کی حالت میں طلاق دینا ممنوع نہیں ہے کہ وہ مباح ہے ،البتہ اس سے عدت لمبی ہو جائے گی یہ ممنوع ہے ، کیونکہ جس حیض میں طلاق دے گا وہ حیض عدت میںشمار نہیں ہو گا ، اس لئے ساڑھے تین حیض عدت ہو جائے گی ، اس لئے تطویل عدت ممنوع ہے ۔ 

Flag Counter