منسوخ کیا۔اور ان کے ہی زمانے میں بالاتفاق اس کو تین طلاق شمار کرنے لگے۔اثر کا آخری لفط ہے۔ فامضاہ علیھم ۔یعنی تین طلاقیں نافذ کردیں(٢)دوسرے اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ صحبت سے پہلے عورت کو تین طلاقیں دے تو اس کو ایک شمار کرتے تھے اور وہ تو ہم بھی کہتے ہیں۔اثر میں اس کا ثبوت ہے۔ان رجلا یقال لہ ابوا لصھباء کان کثیر السوال لابن عباس قال اما علمت ان الرجل کان اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا جعلوھا واحدة علی عھد رسول اللہ وابی بکر وصدرا من امارة عمر قال ابن عباس بلی کان الرجل اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا جعلوھا واحدة علی عھد النبی ۖ وابی بکر وصدرا من امارة عمر فلما رای الناس قد تتابعوا فیھا قال اجیزوھن علیھن ۔ (سنن للبیہقی ، باب من جعل الثلاث واحدة وما ورد نی خلاف ذلک ج سابع، ص ٥٥٤، نمبر ١٤٩٨٥ مصنف ابن ابی شیبة،باب ٢٠ ماقالوا اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا فھی واحدة، ج رابع ،ص ٧٠، نمبر ١٧٨٧٢) اس اثر میں ہے کہ صحبت سے پہلے تین طلاق دے تو اس کو ایک طلاق شمار کرتے تھے۔لیکن لوگوں نے زیادتی کی تو ان کو بھی تین طلاقیں شمار کرنے لگے ۔یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ غیر مدخول بھا کو ایک مجلس میں طلاق،طلاق،طلاق کہہ کر طلاق دے تو صرف پہلی طلاق واقع ہوگی اور باقی ضائع ہو جائے گی۔کیونکہ اب وہ طلاق کا محل باقی نہیں رہی(٣)آیت میں تین کو تین ہی مانا ہے۔اس لئے اس کو ایک کیسے مان سکتے ہیں۔آیت یہ ہے فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (آیت ٢٣٠ سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ تیسری طلاق دے تو حلالہ کے بغیر بیوی حلال نہیں ہے۔اس لئے تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک ماننا صحیح نہیں ہے۔
نوٹ: ]٣[ طلاق بدعی کی تیسری صورت یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دے]٤[ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ ، ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع کر چکا ہو تو یہ بھی طلاق بدعی ہیں۔
وجہ: (١) حیض کی حالت میں طلاق دینا مبغوض ہے۔اس کی دلیل حدیث ابن عمر گزری کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کے طلاق دینے پر آپۖ ناراض ہوئے اور رجعت کرنے کا حکم دیا۔(٢)اور طہر میں جماع کیا ہوپھر طلاق دی ہو اس کے مبغوض ہونے کی دلیل یہ اثر ہے۔عن ابن عباس یقول ... اما الحرام فان یطلقھا وھی حائض او یطلقھا حین یجامعھا لا تدری اشتمل الرحم علی ولد ام لا ۔ (دار قطنی ، باب کتاب الطلاق، ج رابع ،ص ٣ ،نمبر ٣٨٤٥ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق السنة وطلاق البدعة ،ج سابع، ص ٥٣٢، نمبر١٤٩١٦) (٣) اوپر عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزری جس میں تھا وان شاء طلق قبل ان یمس (بخاری شریف ،نمبر ٥٢٥١)جس سے معلوم ہوا کہ طہر میں وطی سے پہلے طلاق دے۔وطی کے بعد طلاق دینا بدعت ہے،لیکن یہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
وجہ : (١) اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر للنبی ۖ فقال