Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

346 - 465
غصہ ہوئے جس سے معلوم ہوا کہ یہ طلاق بدعت ہے۔
اور تینوں طلاقیں واقع ہو جائیںگی اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔(١)   عن سید بن غفلة قال لما مات علی  جائت عائشة بنت خلیفة الخثعمیة امأة الحسن بن علی ....و قال لولا انی أنبت الطلاق لھا لراجعتھا ، و لکنی سمعت رسول اللہ  ۖ یقول أیما رجل طلق امرأتہ  ثلاثا عند کل طہر تطلیقة او عند رأس کل شھر تطلیقة ، او طلقھا ثلاثا جمیعا ،لم تحل حتی تنکح زوجا غیرہ۔ ( دار قطنی ، کتاب الطلاق ، ج رابع ، ص٢٠، نمبر ٣٩٢٨) اس حدیث میں ہے کہ تینوں طلاقیں ایک ساتھ دے دے تب بھی مغلظہ ہو جائے گی ۔  (٢)لمبی حدیث کا یہ ٹکڑا ہے۔ان سہل بن سعد الساعدی اخبرہ ان عویمر العجلانی جاء الی عاصم ....... قال عویمر کذبت علیھا یا رسول اللہ ان امسکتھا فطلقھا ثلاثا قبل ان یأمرہ رسول اللہ ۖ  (بخاری شریف ، باب من جوز الطلاق الثلاث ص ٧٩١ نمبر ٥٢٥٩ مسلم شریف ، کتاب اللعان ص ٤٨٨ نمبر ١٤٩٢ ٣٧٤٣) اس حدیث میں حضرت عویمر نے بیک وقت تین طلاقیں دی اور واقع بھی ہو گئیں (٣)عن مجاھد قال کنت عند ابن عباس فجاء ہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثا قال فسکت حتی ظننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقة ثم یقول یا ابن عباس! یا ابن عباس! وان اللہ قال ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا (آیت ٢ سورة الطلاق ٦٥) وانک لم تتق اللہ فلا اجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک ۔ ( ابو داؤد شریف ، باب نسخ المراجعة بعد التطلیقات الثلاث ص ٣٠٤ نمبر ٢١٩٧ مصنف ابن ابی شیبة ١٠ من کرہ ان یطلق الرجل امرأتہ ثلاثا فی مقعد واحد واجاز ذلک علیہ ج رابع ،ص ٦٢، نمبر١٧٧٨٣)اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ طلاق واقع ہو جائے گی۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا مبغوض ہے۔(٤)ایک اور اثر میں ہے۔سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امرأة ثلاثا فی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امرأتہ ۔ (مصنف ابن ابی شیبة،باب من کرہ ان یطلق الرجل امرأتہ ثلاثا فی مقعد واحد واجاز ذلک علیہ، ج رابع ،ص٦٢، نمبر١٧٧٨٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جائیںگی۔
فائدہ:   ایک اثر میںہے کہ حضورۖ کے زمانے میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں،اثر یہ ہے۔عن ابن عباس قال کان الطلاق علی عھد رسول اللہ وابی بکر وسنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب ان الناس استعجلوا فی امر قد کانت لھم فیہ اناة فلو امضیناہ علیھم فامضاھم علیھم ۔(مسلم شریف ، باب طلاق الثلاث ص ٤٧٧ نمبر ١٤٧٢ ٣٦٧٣ نسائی شریف ، باب طلاق الثلاث المتفرقة قبل الدخول بالزوجة ص ٤٧٦ نمبر ٣٤٣٥) اس اثر میں اگرچہ ہے کہ حضورۖ کے زمانے میں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے شروع زمانے میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے تھے۔لیکن اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ حضرت عمر   کو اس کے منسوخ ہونے کا علم تھا اس لئے اس کو 

Flag Counter