Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

345 - 465
٤ ثم قیل الاولیٰ ان یؤخر الایقاع الی الطہر احترازاً عن تطویل العدة  ٥ والاظہر ان یطلقہا کما طہرت لانہ لو اخر ربما یجامعہا ومن قصدہ التطلیق فیبتلی بالایقاع عقیب الوقاع  (١٧٢٨)وطلاق البدعة ان یطلقہا ثلثا بکلمة واحدة او ثلثا فی طہر واحد فاذا فعل ذلک وقع الطلاق وکان عاصیاً ) 

کو٫ دلیل الحاجة ، کہتے ہیں ، اس جملے کو یاد رکھیں یہ کئی جگہ کام آئے گا ۔عبارت کا مطلب یہ ہے کہ  ہرطہر میں جماع کی رغبت تازہ ہو تی ہے ایسے وقت میں طلاق کا اقدام کر نا ضرورت کی دلیل ہے ۔ 
ترجمہ:  ٤   پھرکہا گیا کہ بہتر یہ ہے کہ طلاق واقع کر نے کو طہر کے آخیر تک مؤخر کرے عدت لمبی ہو نے سے بچنے کے لئے ۔ 
تشریح:  بہتر یہ ہے کہ جس طہر میں ابھی تک جماع نہ کیا ہو اس کے آخیر میں طلاق دے ، تاکہ عورت کی عدت لمبی نہ ہو ، اس اثر میں اس کا اشارہ ہے ۔ عن ابن سیرین قال قال رجل یعنی علیا ....او طاہر لم یجامعھا ینتظر حتی اذا کان فی قبل عدتھا فان بدا لہ ان یراجعھا و ان بدا لہ ان یخلی سبیلھا۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ما قالوا فی طلاق السنة ما و متی یطلق ؟، ج رابع ، ص ٥٦، نمبر ١٧٧٢٢) اس اثر میں ہے کہ انتظار کرے عدت سے پہلے یعنی حیض سے پہلے طلاق دے ، جس سے معلوم ہوا کہ طلاق کو آخیر طہر تک مؤخر کرے ۔ 
ترجمہ:  ٥  لیکن اظہر یہ ہے کہ جیسے ہی عورت پاک ہو طلاق دے دے اس لئے کہ اگر مؤخر کیا تو ہو سکتا ہے کہ اس سے وطی کر لے ، حالانکہ اس کی نیت طلاق دینے کی ہو تو جماع کے بعد طلاق واقع کر نے میں مبتلا ہو گا۔ 
تشریح:  ظاہر روایت یہ ہے کہ عورت حیض سے جیسے ہی پاک ہوئی طلاق دے دے ، کیونکہ اگر آخیر طہر تک مؤخر کیا تو ہو سکتا ہے کہ اس سے جماع کر بیٹھے ، حالانکہ اس کی نیت طلاق دینے کی تھی ، تو جماع کے بعد طلاق دینا ہو جائے گا جو حدیث کے اعتبار سے اچھا نہیں ہے ۔ اس لئے طہر شروع ہو تے ہی طلاق واقع کردے ۔ 
ترجمہ:(١٧٢٨)  ]٣[ اور طلاق بدعت یہ ہے کہ عورت کو تین طلاق دے ایک کلمے سے یا تین طلاق دے ایک طہر میں۔پس جب یہ کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی (اور عورت بائنہ ہو جائے گی)۔اور وہ گنہگار ہوگا۔  
تشریح :   بدعت طلاق کی کئی صورتیں ہیں۔]١[ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک جملے سے تین طلاق دیدے۔]٢[اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دیدے۔ تاہم طلاق دیدی تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیںگی۔  
وجہ:   (١) حدیث میں ہے۔سمعت محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضبانا ثم قال ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم ۔(نسائی شریف، الثلاث المجموعة وما فیہ من التغلیظ ص ٤٧٥ نمبر ٣٤٣٠ دار قطنی ، کتاب الطلاق ج رابع ص ١٤ نمبر ٣٩٠٠) اس حدیث میں بیک وقت تین طلاق دینے سے آپ 

Flag Counter