Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

344 - 465
٢ ولنا قولہ علیہ السلام فی حدیث ابن عمر عنہما ان السنة ان یستقبل الطہر استقبالا  فیطلقہا لکل قرء تطلیقة ٣ ولان الحکم یدار علی دلیل الحاجة وہو الاقدام علی الطلاق فی زمان تجدد الرغبة وہو الطہر فالحاجة کالمتکررة نظراً الی دلیلہا  

تشریح: امام مالک  فر ماتے ہیں کہ ہر طہر میں ایک طلا ق مجموعہ تین طلاق دینا یہ بھی بدعت ہے ، اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ ایک طلاق بھی دینا ممنوع ہے ، یہ تو عورت کو چھٹکارے کے لئے ایک کی اجازت ہے ، اور یہ ضرورت ایک طلاق سے پوری ہو گئی اس لئے دوسری اور تیسری طلاق دینا یہ بھی بدعت ہے ۔
وجہ :    مبغوض ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے۔  عن ابن عمر عن النبی  ۖ قال ابغض الحلال الی اللہ عز و جل الطلاق۔ ( ابو داود شریف ، باب فی کراہیة الطلاق ، ص ٣١٥، نمبر ٢١٧٧) اس حدیث میں ہے کہ طلاق جائز تو ہے لیکن اللہ کے نزدیک مبغوض ہے ، اس لئے ایک سے کام چلتا ہو تو دوسری بدعت ہو گی ۔  
ترجمہ:  ٢  ہماری دلیل حضرت ابن عمر  کی حدیث میں حضور ۖ کا قول ہے، کہ سنت یہ ہے کہ طہر کا انتظار کرے، پھر اس کو ہر طہر میں ایک طلاق دے ۔ 
تشریح :  ہماری دلیل حضرت ابن عمر والی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے سکتا ہے ، اور مجموعہ تین طلاق دے سکتا ہے ، اس لئے وہ بدعت نہیں ہے ۔ صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے ۔   عن الحسن قال نا عبد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ تطلیقة و ھی حائض ، ثم اراد ان یتبعھا بتطلیقتین أخراوین عند القرئین فبلغ ذالک رسول اللہ ۖ فقال : یا ابن عمر ما ھکذا أمرک اللہ انک قد أخطأت السنة ، السنة ان تستقبل الطھر فیطلق لکل قروء ، قال فامرنی رسول اللہ  ۖ فراجعتھا ثم قال اذا ھی طھرت فطلق عند ذالک او أمسک ۔ ( دار قطنی ، کتاب الطلاق، ج رابع ، ص ٢٠، نمبر ٣٩٢٩) اس حدیث میں ہے کہ طہر کا انتظار کرو اور  ہر طہر میں طلاق دو ، جس سے تین طلاق دینا سنت ثابت ہوا ۔  
ترجمہ:  ٣  اور اس لئے کہ حکم ضرورت کی دلیل پر دائر ہو تا ہے اور وہ ہے ایسے زمانے میں طلاق پر اقدام کر نا جس میں رغبت جماع تازہ ہو تی ہے ، اور وہ ہے طہر تو ضرورت کی دلیل کی طرف دیکھتے ہوئے طلاق کی حاجت مکرر ہو گئی ۔ 
تشریح:  تین طلاق مباح ہو نے کی یہ دلیل عقلی ہے ۔  اس عبارت میں٫ دلیل الحاجة ، ایک محاورہ ہے جسکو بار بار پیش کریں گے۔ ہر طہر میں جماع کر نے کی رغبت تازہ ہوجاتی ہے اس وقت طلاق دینے کا اقدام کر نا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بیوی سے اتنی نفرت ہے کہ بجائے جماع کے اس کو طلاق دیکر بالکل الگ کر نا چا ہتا ہے ، اس لئے اس وقت طلاق دینا حاجت کی دلیل ہے اسی 

Flag Counter