١ وقال مالک انہ بدعة ولایباح الا واحدة لان الاصل فی الطلاق ہو الحظر والاباحة لحاجة الخلاص وقد اندفعت بالواحدة
تشریح : ]٢[ یہ دوسری قسم کی طلاق ہے ، جسکو طلاق حسن کہتے ہیں، اور اسی کو طلاق سنت بھی کہتے ہیں ۔ جس عورت سے صحبت نہیں کی ہے اس کو ایک طلاق بھی دے گا تو وہ فورا بائنہ ہو کر جدا ہو جائے گی۔اور دوسری اور تیسری طلاق دینے کا محل باقی نہیں رہتی۔ اور اس پر عدت نہیں ہے ۔ اس لئے جس عورت سے صحبت نہ کی ہو اس کو تین مجلس میں تین طلاق نہیں دے سکتا۔تین مجلس میں تین طلاقیں تو صحبت شدہ عورت کو دے سکتا ہے۔ اس لئے اس کے لئے سنت یہ ہے کہ تین طہروں میں تین طلاقیں دے۔اسی کو طلاق ٫حسن ، کہتے ہیں ۔
وجہ: (١)یہ سنت طریقہ ہے لیکن چونکہ عورت کو تین طہروں میں تین طلاقیں واقع ہوںگی اور حلالہ کرانے کی ضرورت پڑے گی اس لئے یہ پہلی والی سے کم درجہ ہے (٢) حدیث میں ہے۔عن عبد اللہ انہ قال طلاق السنة تطلیقة وھی طاہر فی غیر جماع فاذا حاضت وطھرت طلقھا اخری فاذا حاضت وطھرت طلقھا اخری ثم تعتد بعد ذلک بحیضة ۔ (نسائی شریف، باب طلاق السنة ص ٤٧٥ نمبر ٣٤٢٣ دار قطنی ،کتاب الطلاق، ج رابع ،ص ٤، نمبر ٣٨٤٦) اس حدیث میں ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے (٣)حدیث میںہے کہ عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو آپ ۖنے رجعت کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا کہ جب طہر آجائے تو اس میں چاہے تو طلاق دے اور چاہے تو بیوی رکھ لے۔حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمر انہ طلق امرأتہ وھی حائض علی عھد رسول اللہ فسأل عمر بن الخطاب رسول اللہ ۖ عن ذلک فقال رسول اللہ ۖ مرہ فلیراجعھا ثم لیمسکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلق قبل ان یمس فتلک العدة التی امر اللہ ان یطلق لھا النسائ۔ (بخاری شریف ، باب وقول اللہ تعالی یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحسوا العدة (آیت ١ سورة الطلاق ٦٥[،ص٧٩١، نمبر ٥٢٥١) مسلم شریف ، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا ،ص ٤٧٦ ،نمبر ٣٦٥٢١٤٧١ ابو داؤد شریف، باب فی طلاق السنة، ص ٣٠٣ ،نمبر ٢١٧٩)اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا مبغوض ہے۔(٤) یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدة ۔ (آیت ١ ،سورة الطلاق ٦٥)اس آیت میں ہے کہ عدت کے گزارنے کا وقت شروع ہو اس موقع پر طلاق دو ، یعنی ایسے طہر میں طلاق دو جسکے بعد فورا حیض کی عدت گزارنا شروع کر دے ۔
ترجمہ: ١ اور امام مالک نے فر ما یا کہ وہ بدعت ہے اور نہیں مباح ہے مگرایک طلاق ، اس لئے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے ، چھٹکارے کی ضرورت کی وجہ سے مباح ہے ، اور ایک طلاق سے ضرورت پوری ہو گئی ]اس لئے دوسری اور تیسری بدعت ہو گی [