Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

338 - 465
(١٧٢٥) ولا یقبل فی الرضاع شہادة النساء منفردات وانما یثبت بشہادة رجلین او رجل وامرأتین) ١ وقال مالک یثبت بشہادة امرأة واحدة اذا کانت موصوفةً بالعدالة لان الحرمة حق من حقوق الشرع فیثبت بخبر الواحد کمن اشتری لحما فاخبرہ واحد انہ ذبحےة المجوسی

کیسے سمجھا جائے گا کہ دودھ پلا کر نکاح توڑنے کا ارادہ تھا ۔ اس لئے فساد کے ارادے کو دفع کرنے کے لئے جہل کااعتبار کیا جائے گا ۔دفع الحکم :شریعت کا حکم کہیں لا گو ہو رہا ہو تو چا ہے اس کو مسئلہ معلوم نہ بھی ہو تو دار الاسلام میں وہ حکم لاگو ہو جائے گا ، مثلا آزاد عورت کی شادی بچپنے میں کر دی تھی اور اس کو مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے خیار بلوغ ملے گا ، اور اس خیار کی وجہ سے نکاح توڑوا سکوں گی ، اور وہ بالغ ہو گئی اور نکاح نہیں توڑا تو اس کا خیار بلوغ ختم ہو جائے گا ، چا ہے اس کو یہ مسئلہ معلوم نہ ہو ۔ 
ترجمہ :  (١٧٢٥)  اور نہیں قبول کی جائے گی رضاعت میں تنہا عورتوں کی گواہی، بلکہ ثابت ہوگی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے۔  
وجہ:  (١)رضاعت کے ثبوت سے حرمت ثابت ہوگی اور نکاح فاسد ہوگا جو حقوق العباد ہیں۔ اور حقوق العباد کے ثبوت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی درکار ہے۔ اس لئے رضاعت کے ثبوت کے لئے تنہا دو عورتوں یا چار عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں ہے (٢) آیت یہ ہے۔واستشھدوا شھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشھداء ان تضل احداھما فتذکر احداھما الاخری۔ (آیت ٢٨٢، سورة البقر(٢) اس آیت سے معلوم ہوا کہ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ صرف عورتیں گواہ نہ ہوں (٣) ایک اثر سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ان عمر بن الخطاب اتی فی امرأة شھدت علی رجل وامرأتہ انھا ارضعتھا فقال لا حتی شھد رجلان او رجل وامرأتان ۔ (سنن للبیہقی، باب شہادة النساء فی الرضاع، ج سابع ،ص ٧٦٤، نمبر١٥٦٧٦)اس اثر سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے لئے بھی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں چاہئے۔
 ترجمہ :   ١  امام مالک  نے فر ما یا کہ ایک عورت کی گواہی سے رضاعت ثابت ہو گی ، جبکہ وہ عادل ہو ، اس لئے کہ حرمت شریعت کے حقوق میں سے ہے اس لئے ایک کی خبر سے ثابت ہو گی ، جیسے کہ کسی نے گوشت خریدا اور ایک آدمی نے خبر دی کہ وہ مجوسی کا ذبح کیا ہوا ہے ]تو گوشت حرام ہو گا [  
تشریح :  امام مالک  فر ما تے ہیں کہ اگر عورت عادل ہو تو رضاعت میں ایک عورت کی گواہی  قابل قبول ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رضاعت شریعت کا حق ہے اس لئے کہ امور دینیہ ہے  ، اور  امور دینیہ ایک عورت کی گواہی سے ثابت کی جاتی ہے اس لئے اس میں ایک عورت کی گواہی قبول کی جائے گی ، جیسے کسی نے گوشت خریدا ، اور ایک عورت نے خبر دی کہ یہ مجوسی اور کافر کا ذبیحہ ہے تو 

Flag Counter