Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

337 - 465
٥ ثم انما تکون متعدےة اذا علمت بالنکاح وقصدت بالارضاع الفساد اما اذا لم تعلم بالنکاح او علمت بالنکاح  ولکنہا قصدت دفع الجوع والہلاک من الصغیرة دون الافساد لاتکون متعدےة لانہا مامورة بذلک ٦   ولو علمت بالنکاح ولم تعلم بالفساد لاتکون متعدےة ایضاً ٧ وہذا منا اعتبار الجہل لدفع قصد الفساد لا لدفع الحکم  

حد سے تجاوز کر نا ۔ حفر: کنواں کھودنا ، حفر البیر: کنواں کھودنا ۔ 
 ترجمہ :   ٥   پھر عورت تعدی کر نے والی اس وقت ہو گی ، جبکہ نکاح کو جانتی ہو، اور دودھ پلا کر فساد کا ارادہ کیا ہو ، پس اگر نکاح کو ہی نہیں جانتی ہو ، یانکاح ہو نے کو جانتی ہو لیکن بھوک دور کر نے  اور چھوٹی کو ہلاکت سے بچانے کا ارادہ کیا ہو ، فساد کا ارادہ نہ کیا ہو تو متعدیہ نہیں ہو گی ، اس لئے کہ اس کا تو حکم دی گئی ہے ۔
تشریح :   یہاں سے یہ بتا رہے ہیں کتنی شرطوں کے بعد سمجھا جائے گا کہ بڑی نے دودھ پلاکر فساد کا ارادہ کیا ہے ۔ تو تین شرطوں کے بعد سمجھا جائے گا کہ بڑی  بیوی نے فساد کا ارادہ کیا ہے ]١[ بڑی جانتی ہو کہ اس چھوٹی کا نکاح میرے شوہر کے ساتھ ہے ]٢[ دودھ پلا کر فساد کا ارادہ کیا ہو ، مثلا چھوٹی کو بھوک نہیںتھی اور پلا دیا ،اور اگر بھوک سے رو رہی تھی اور ہلاکت کا خطرہ تھااور اپنا دودھ پلانے کے علاوہ کوئی صورت نہیں تھی ، ایسی صورت میں دودھ پلایا تو اس سے جان بچا نا سمجھا جائے گا جسکا شریعت حکم دیتی ہے ، نکاح توڑنے کا ارادہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ]٣[ اور تیسری شرط یہ ہے کہ بڑی کو یہ مسئلہ بھی معلوم ہو کہ دودھ پلانے سے نکاح ٹوٹ جائے گا ۔کیونکہ اگر یہ مسئلہ نہیں جانتی ہو تو کیسے کہا جائے گا کہ نکاح توڑوانے کی نیت تھی !
 ترجمہ :  ٦  اور اگر نکاح ہو نا جانتی ہو لیکن فاسد ہو نا نہیں جانتی ہو تب بھی تعدی کر نے والی نہیں ہو گی ۔ 
تشریح :   یہ تیسری شرط ہے کہ نکاح ہو نا جانتی ہو ،لیکن یہ نہیں جانتی ہو کہ دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جاتا ہے تو تعدی کرنے والی نہیں ہوگی اور اس سے مہر وصول نہیں کیا جائیگا۔ 
 ترجمہ :  ٧  یہ ہمارے یہاں نہ جاننے کا اعتبار فساد کے ارادے کو دفع کرنے کے لئے ہے ، حکم کو دفع کر نے کے لئے نہیں ہے۔ 
تشریح :  یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ دار الاسلام میں ہر آدمی کو  موٹے موٹے مسئلے معلوم ہو نا چا ہئے ، اس لئے مسئلہ معلوم نہ ہو نا کوئی عذر نہیں ہے ، اس لئے بڑی بیوی کو نکاح ٹوٹنے کامسئلہ معلوم نہ بھی ہو تب بھی اس سے آدھا مہر وصول کر نا چا ہئے ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے ، کہ اس کو مسئلہ معلوم نہیں ہے تو سمجھا جائے گا کہ فساد کا ارادہ نہیں کیا ہے ، اس لئے فساد کے ارادے کو دفع کر نے کے لئے جہل کا اعتبار ہے۔ہاں حکم کو دفع کر نے کے لئے جہل کا اعتبار نہیں ہے۔    
 لغت:   دفع قصد الفساد : اس وقت سمجھا جائے گا کہ نکاح فاسد کر نے کا ارادہ ہے ، جبکہ اس کو مسئلہ معلوم ہو ، اور مسئلہ ہی معلوم نہ ہو تو 

Flag Counter