Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

336 - 465
٣ اما لان الارضاع لیس بافساد النکاح وضعاً وانما یثبت ذلک باتفاق الحال  ٤ او لان فساد النکاح لیس بسبب لا لزام المہر بل ہو سبب لسقوطہ الا ان نصف المہر یجب بطریق المتعة علی ما عرف لکن من شرطہ ابطال النکاح واذا کانت مسببة یشترط فیہ التعدی کحفر البیر

ہو تی تو ہر حال میں اس سے مہر وصول کیا جاتا۔
ترجمہ:  ٣  یا اس لئے کہ دودھ پلانا نکاح کو فاسد کر نے کے لئے وضع نہیں کیا گیا ہے ، یہ تو اتفاق حال سے ثابت ہو گیا ۔ 
تشریح:  دودھ پلانا نکاح ٹوٹنے کا سبب ہے ، علت نہیں ہے ، اس کی وجہ بتا رہے ہیں ، کہ دودھ پلانا نکاح توڑنے کے لئے وضع نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ وہ تو بھوک دور کرنے کے لئے اور جان بچانے کے لئے ہے ، یہ تو حسن اتفاق سے دو نوں بیوی ایک شوہر کے تحت میں تھی تو نکاح ٹوٹ گیا ۔ اس لئے یہ سبب ہے علت نہیں ہے ۔ 
ترجمہ:  ٤  یا اس لئے کہ نکاح کا فاسد ہو نا مہر لازم ہو نے کا سبب نہیں ہے ، بلکہ وہ مہر کے ساقط ہو نے کا سبب ہے ، مگر یہ کہ آدھا مہر متعہ کے طریقے پر لازم ہو گیا ، جیسا کہ پہلے معلوم ہوا لیکن اس کی شرط ہے کہ نکاح باطل کیا ہو ، اور جب عورت سبب بنی تو اس میں شرط ہے کہ تعدی کی ہو ، جیسے شارع عام پر کنواں کھودا ہوا ۔ 
تشریح:  عورت کا دودھ پلانا سبب ہے علت نہیں ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے یہ دوسری دلیل ہے ۔ نکاح کا فاسد ہو نا مہر کے لازم ہو نے کا سبب نہیں ہے ، بلکہ مہر ساقط ہو نے کا سبب ہے ، چنانچہ عورت دخول سے پہلے مرتد ہو جائے اور نکاح ٹوٹ جائے تو شوہر سے مہر ساقط ہو جا تا ہے ، البتہ یہاں اس طرح نکاح فاسد ہوا کہ مہر لازم ہو گیا ، بلکہ یہاں دخول سے پہلے طلاق ہے اس لئے متعہ لازم ہو نا چا ہئے ، لیکن مہر متعین ہے اس لئے اس کی جگہ پر آدھا مہر لازم ہوا ، تاہم یہ فساد مہر لازم ہو نے کا سبب ہے ، اس لئے اس کی شرط ہے کہ نکاح توڑنے کی نیت سے دودھ پلائی ہو ۔ اس کی مثال دیتے ہیں کہ ، کنواں میں گر نے کا اصل علت آدمی کا بوجھ اور وزن ہے ، لیکن کنواں کھودنا گر نے کا سبب ہے ، پس اگر اپنے کھیت میں کنواں کھودا ہو تو سمجھا جائے گا کہ کھیت کوپانی پلانے کے لئے کھودا تھا ، اور اس میں کوئی آدمی گر گیا تو کھودنے والے پر دیت لازم نہیں ہو گی ۔ اوراگر سرکاری زمین میں چلنے کے راستے میںکنوا ں کھودا تو سمجھا جائے گا کہ آدمی کو گرانے کے لئے کنواں کھودا تھا ، اس لئے اب کوئی گرا تو کھودنے والے پر دیت لازم ہو گی ۔ حاصل یہ ہے کہ سبب میں فساد کی علامت ہو تو ضمان لازم ہو گا اور اگر فساد کی علامت نہ ہو تو اس پر ضمان لازم نہیں ہو گا ۔ یہاں بڑی بیوی کا دودھ پلانا نکاح ٹوٹنے کا سبب ہے اسلئے فساد کی علامت موجود ہو تو اس سے آدھامہر وصول کیا جائے گا ، اور اگر اصلاح کی علامت ہو تو اس سے آدھا مہر وصول نہیں کیا جائے گا ۔ 
 لغت:    متعة: فائدہ اٹھانے کے لئے عورت کو  طلاق کے بعد تین کپڑا دیتے ہیں ، اس کو متعہ کا کپڑا کہتے ہیں ۔ تعدی : ظلم کر نا ، 

Flag Counter