Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

335 - 465
  ١ وعن محمد انہ یرجع فی الوجہین  ٢ والصحیح ظاہر الرواےة لانہا وان اکدت ما کان علی شرف السقوط وہو نصف المہر وذلک یجری مجری الاتلاف لکنہا مسببة فیہ

سے وصول نہیں کر لیگا ۔ 
وجہ:   کیونکہ اس نے جان کر نکاح توڑوایا اور آدھا مہر دلوانے کا سبب بنی اس لئے اس پر چھوٹی کو دیا ہوا مہر لازم ہو گا ۔ 
ترجمہ:  ١  امام محمد سے روایت ہے کہ دو نوں صورتوں میں رجوع کرے گا ۔ 
تشریح:   امام محمد  سے روایت یہ ہے کہ چا ہے بڑی بیوی نکاح توڑوانے کے لئے دودھ پلائی ہو یا اصلاح کے لئے پلائی ہو ہر حال میں شوہر کو حق ہے کہ چھوٹی کو دیا ہوا آدھا مہر بڑیسے وصول کرے ۔  اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ بڑی عورت نکاح توڑوانے کا سبب ہے ، اور سبب جان کر کرے یا بھول میں کرے ہر حال میں اس کا ضمان دینا پڑتا ہے اس لئے یہاں عورت کو آدھا مہر دینا ہو گا۔ 
ترجمہ:  ٢  صحیح ظاہر روایت ہے اس لئے کہ بڑی بیوی نے اگر چہ اس آدھے مہر کو مؤکد کر دیا جو ساقط ہو نے کے قریب تھا ، اور یہ اتلاف کے قائم مقام ہے لیکن وہ اس میں سبب والی ہے ۔ 
لغت:  ]١[ایک ہے سبب ،]٢[ اور دوسرا علت ،]٣[ تیسرا ہے مباشر]٤[ چوتھا ہے شرف السقوط۔چاروں کو سمجھیں ۔
]١[سبب:دودھ پلانا زندگی بچانے کے لئے ہے ، نکاح توڑنے کے لئے نہیں ہے ، یہ حسن اتفاق ہے کہ چھوٹی اور بڑی ایک شوہر کی بیوی ہے اس لئے چھوٹی کو دودھ پلانے کی وجہ سے دو نوں کا نکاح ٹوٹ گیا ، اور شوہر کو آدھا مہر دینا پڑا، اور اس نکاح توڑوانے میں بڑی عورت سبب بن گئی ، پس ایسا فعل جو کئی کام کے لئے ہو ، اور اس میں ایک کام ہو کر ضمان لازم ہو جائے ، اس کو سبب کہتے ہیں۔  اس میں  فساد کے لئے کرے گی تو ضمان لازم ہو گا ، اور اصلاح کے لئے کرے گی تو ضمان لازم نہیں ہو گا ۔  ]٢[علت :جو فعل ایک ہی کام کے لئے ہو اس کو علت کہتے ہیں ،مثلا قتل کر دے تو اس پر دیت لازم ہو گی ، اس قتل کر نے کو دیت کی علت کہتے ہیں ۔ اس میں فساد کی نیت سے کرے یا اصلاح کی نیت سے قتل کرے ہر حال میں دیت لازم ہو گی  ]٣[مباشر : جو خود غلطی کرے تو اس کو مباشر کہتے ہیں ، جیسے شوہر خود طلاق دے تو شوہر طلاق دینے کا مباشر ہوا۔]٤[شرف سقوط:یہ چھوٹی بیوی بالغ ہو نے کے بعد شوہر کے بیٹے سے زنا کرا لیتی تو نکاح ٹوٹ جا تا اور مہر ساقط ہو جا تا ، یا عورت مرتد ہو جاتی تو بھی نکاح ٹوٹ جا تا اور شوہر سے مہر ساقط ہو جا تا،اس کو ٫شرف السقوط ،کہتے ہیں ۔۔ لیکن بڑی نے چھوٹی کو دودھ پلایا تو نکاح ٹوٹا اور شوہر پر آدھا مہر لازم ہوگیا۔   
تشریح:   صاحب ہدایہ کی عبارت پیچیدہ ہے ۔اب صورت مسئلہ یہ ہے کہ، ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ آدھا مہر ساقط ہو نے کے قریب تھا ، لیکن بڑی بیوی نے دودھ پلا کر اس کو مؤکد کر دیا تو گویا کہ عورت نے ہی شوہر کا اتلاف کیا ، اور وہ سبب کے درجے میں ہوئی ، علت کے درجے میں نہیں ،اس لئے جان کر توڑی ہو تو اس سے آدھا مہر وصول کیا جائے گا ورنہ نہیں۔ہاں علت کے درجے میں 

Flag Counter