Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

334 - 465
المہر ) ١ لان الفرقة وقعت لا من جہتہا ٢   والاتضاع وان کان فعلا منہا لکن فعلہا غیر معتبر فی اسقاط حقہا کما اذا قتلت مورثہا  (١٧٢٤)ویرجع بہ الزوج علی الکبیرة ان کانت تعمدت بہ الفساد وان لم تتعمد فلاشیٔ علیہا وان علمت بان الصغیرة امرأتہ )

ترجمہ:  ١  اس لئے کہ فرقت چھوٹی کی جانب سے نہیں آئی ہے ۔ 
 تشریح:    بڑی سے صحبت نہیں کی اور تفریق واقع ہوئی تو اس کو آدھا مہر ملنا چاہئے ۔لیکن بڑی کے دودھ پلانے سے تفریق واقع ہوئی ہے اس لئے تفریق کا سبب بڑی بیوی بنی۔اس لئے اس کو آدھا مہر بھی نہیں ملے گا۔اور چھوٹی کی جانب سے تفریق نہیں ہے اور صحبت سے پہلے تفریق واقع ہوئی ہے اس لئے اس کو آدھا مہر ملے گا۔
ترجمہ:   ٢  اور دودھ پینا اگر چہ چھوٹی لڑکی کافعل ہے ، لیکن اس کا فعل اپنے حق کے ساقط کرنے میں معتبر نہیں ہے ، جیسے کہ اپنے مورث کو قتل کر دے ۔ 
تشریح :   یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ چھوٹی نے خود سے دودھ پیا ہے جسکی وجہ سے نکاح ٹوٹا ہے اس لئے اس کو بھی آدھا مہر نہیں ملنا چا ہئے ، اس کا جواب ہے کہ یہ اتنی چھوٹی ہے کے اس کے پینے کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، کیونکہ اس کو یاد ہی نہیںہے کہ میں نے دودھ پیا ہے اور میرے پینے سے نکاح ٹوٹا ہے ، جیسے یہ چھوٹی اپنے مورث کو قتل کر دے تب بھی اس کی وراثت ملے گی ، حالانکہ بڑی ہو تی اور اپنے مورث کو قتل کرتی تو اس کو اس کی وراثت نہیں ملتی۔ اس لئے یوں سمجھا جائے گا کہ چھوٹی نے خود سے دودھ نہیں پیا، اور اس کے فعل سے نکاح نہیں ٹوٹا اس لئے اس کو آدھا مہر ملے گا۔     
ترجمہ: (١٧٢٤)  اور شوہر مہر وصول کرے گا بڑی سے اگر جان کر فساد کی ہو۔اور اگر فساد کا ارادہ نہ کی ہو تو بڑی پر کچھ نہیں ہے، اگر چہ جانتی ہو کہ صغیرہ اس کی بیوی ہے ۔   
تشریح:    بڑی نے نکاح توڑنے ہی کے لئے چھوٹی کو دودھ پلایا ہو تو جو آدھا مہر شوہر نے چھوٹی کو دیا وہ بڑی سے وصول کرے گا۔   جان کر توڑنے کا اردہ اس وقت سمجھا جائے گا جبکہ یہ شرطیں پائی جائیں ۔]١[جبکہ بڑی عورت جانتی ہو کہ اس چھوٹی  بچی کا نکاح میرے شوہر سے ہے ]٢[ دودھ پلا کر نکاح توڑنے کا ہی ارادہ ہو ، مثلا بچی بھوک سے رو رہی ہے ، اور اپنا دودھ پلانے کے علاوہ بھوک دور کرنے کی کوئی اور صورت نہیں ہے ایسی صورت میں دودھ پلایا تو سمجھا جائے گا کہ نکاح توڑنے کے ارادے سے دودھ نہیں پلایا ہے بلکہ بھوک دور کرنے کے لئے اور جان بچانے کے لئے اپنا دودھ پلایا ہے ، اور اگر بچی کو بھوک نہیں تھی اور پلا دیا تو سمجھا جائے گا کہ نکاح توڑنے کے لئے بڑی نے دودھ پلایا ہے۔]٣[  بڑی یہ بھی جانتی ہو کہ دودھ پلانے سے نکاح ٹوٹ جائے گا ، اور اگر اس مسئلے کو جانتی نہیں تھی اور پلا دیا تو سمجھا جائے گا کہ نکاح توڑنے کے لئے نہیں پلایا ہے اس لئے شوہر چھوٹی کو دیا ہوا آدھا مہر بڑی بیوی 

Flag Counter