Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

332 - 465
١ وعن محمد انہ یثبت بہ الحرمة کما یفسد بہ الصوم  ٢  ووجہ الفرق علی الظاہر ان المفسد فی الصوم اصلاح البدن ویوجد ذلک فی الدواء فاما المحرم فی الرضاع معنی النشو و لا یوجد ذلک فی الاحتقان لان المغذی وصولہ من الاعلی  (١٧٢٠)واذا نزل للرجل لبن فارضع صبیا لم یتعلق بہ التحریم ) ١ لانہ لیس بلبن علی التحقیق فلایتعلق بہ النشو و النمو وہذا لان اللبن انما یتصور منہ الولادة  

ہوتی ہے ، پیخانہ کے راستے سے داخل کر نے سے نشو ونما نہیں ہو گی اس لئے حقنہ سے حرمت رضاعت نہیں ہو گی ۔    
ترجمہ :   ١  امام محمد  کی ایک روایت یہ ہے کہ حقنہ سے حرمت ثابت ہو گی جیسے اس سے روزہ فاسد ہو تا ہے ۔
تشریح :   امام محمد  کی ایک روایت یہ ہے کہ حقنہ لگانے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو گی ، جس طرح حقنہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ ، کیونکہ دو نوں طریقوں سے دودھ جسم میں داخل ہو رہا ہے ۔ 
ترجمہ :  ٢  ظاہری طور پر فرق کی وجہ یہ ہے کہ روزے میں فاسد کر نے والی چیز اصلاح بدن ہے ، اور یہ دوا میں بھی پایا جا تا ہے ، اور رضاعت میں حرام کر نے والی چیز نشو ونما ہے ، اور یہ حقنہ میں نہیں پا ئی جاتی اس لئے کہ غذا کا پہونچنا اوپر سے پا یا جا تا ہے ۔ 
تشریح:   حقنہ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی لیکن روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح بدن سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ، اور پیچھے کے راستے سے بھی دودھ بدن میں ڈالے تو اصلاح بدن ہو جائے گا اس لئے اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ اور حرمت رضاعت کا مدار نشو ونما سے ہے ، اور اوپر یعنی منہ کے راستے سے دودھ ڈالے گا تب ہی نشو و نما ہو گی ، پیچھے کے راستے سے ڈالے گا تو نشو ونما نہیں ہو گی اس لئے اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی ۔  
ترجمہ :   (١٧٢٠)  اگر مرد سے دودھ اتر جائے اور وہ اس کو کسی بچے کو پلادے تو اس سے حرمت متعلق نہیں ہوگی۔  
ترجمہ :   ١  اس لئے کہ تحقیق یہ ہے کہ وہ دودھ نہیں ہے اس لئے اس سے نشو نما متعلق نہیں ہو گا ، اس لئے کہ دودھ اس سے متصور ہے جس سے بچہ پیدا ہو نا متصور ہے ]اور مرد سے بچہ پیدا ہو نا متصور نہیں اس لئے اس سے دودھ بھی متصور نہیں ہے [ 
وجہ:   (١) آیت میں۔  امھاتکم التی ارضعنکم ۔ کہا ہے کہ ماں دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوگی۔اور یہ دودھ براہ راست باپ کا ہوگا اس لئے اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی (٢) اثر میں ہے۔عن جابر عن عامر انھما کانا لایریان لبن الفحل شیئا۔ (مصنف ابن ابی شیبة ١٨٧ من رخص فی لبن الفحل ولم یرہ شیئا ج رابع، ص ١٩، نمبر ١٧٣٥٦) اس اثر سے ثابت ہوا کہ مرد کے دودھ سے حرمت رضاعت نہیں ہوگی۔(٣) صاحب ہدایہ نے دلیل عقلی یہ پیش کی ہے کہ مرد کا دودھ حقیقت میں دودھ ہی نہیں ہے ، کیونکہ جس سے بچہ پیدا ہو نا متصور ہے اسی دودھ اترنا بھی متصور ہے ، اور مرد سے بچہ پیدا نہیں ہو تا اس لئے اس سے جو 

Flag Counter