٢ ولنا ان السبب ہو شبہة الجزئےة وذلک فی اللبن لمعنی الانشاء والانبات وہو قائم باللبن
٣ وہذہ الحرمة تظہر فی حق المیتة دفنا وتیمماً ٤ اما الجزئےة فی الوطی لکونہ ملاقیا لمحل الحرث وقد زال بالموت فافترقا (١٧١٩)واذا احتقن الصبی باللبن لم یتعلق بہ التحریم )
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ حرمت کا سبب جزئیت کا شبہ ہے ، اور یہ دودھ میں موجود ہے ، کیونکہ گوشت بڑھانے اور ہڈی اگانے کے معنی دودھ میں موجود ہے ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ حرمت کا اصل سبب دودھ میں گوشت بڑھانے اور ہڈی اگانے کی صلاحیت ہو اور یہ مردہ عورت کے دودھ میں بھی موجود ہے ، اس لئے اس کے پینے سے حرمت ثابت ہو گی ۔
ترجمہ : ٣ اور یہ حرمت مردہ عورت کے حق میں ظاہر ہوگی دفن کے لئے اور تیمم کرانے کے لئے ۔
تشریح : یہ امام شافعی کوجواب ہے انہوں نے فر مایا تھا کہ یہ عورت مر چکی ہے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت کر کے فائدہ کیا ہو گا ، اس کا جواب یہ ہے کہ ، مثلا اس عورت کا دودھ کسی دوسال کے اندر کی بچی نے پیا اور اس کا شوہر موجود تھا ، تو یہ مردہ عورت شوہر کا رضاعی ساس بن گئی ، اور محرم بن گئی اس لئے اگر کوئی ذی رحم محرم دفن کر نے والا نہ ہو تو یہ شوہر دفن بھی کر سکتا ہے ، اور عورت کو تیمم کرانے کی ضرورت پڑے تو تیمم بھی کرا سکتا ہے ۔ حرمت رضاعت ثابت کر نے کا یہ فائدہ ہو گا۔
ترجمہ : ٤ بہر حال وطی میں جزئیت تو اس وقت ہو گا کہ کھیتی کی جگہ میں وطی کیا ہو ، اور موت کی وجہ سے کھیتی کی جگہ نہیں رہی ، اس لئے دو نوں میں فرق ہو گیا ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ موت کے بعد وطی کر نے سے حرمت مصاہرہ ثابت نہیں ہو تی اسی طرح موت کے بعد اس کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ حرمت مصاہرہ کی بنیاد بچہ پیدا ہو نا ہے اور موت کے بعد اس کا رحم اس قابل ہی نہیں رہا کہ اس سے بچہ پیدا ہو ، اس لئے اس سے وطی کرنے سے نہ بچہ پیدا ہو گا اور نہ حرمت مصاہرت ثابت ہو گی ۔ اور حرمت رضاعت کی بنیاد اس دودھ سے نشو و نما ہو نا ہے ، اور موت کے بعد بھی اس دودھ سے بچے کی نشو و نما ہو سکتی ہے اس لئے اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو گی ۔ اس لئے دو نوں میں فرق ہو گیا ۔
لغت: ملاقیا : ملنے کی جگہ ۔ محل الحرث: کھیتی کی جگہ ، بچہ پیدا ہو نے کی جگہ ۔
ترجمہ : (١٧١٩) اگر بچے کو دودھ کا حقنہ لگایا تو اس سے حرمت متعلق نہیں ہو گی ۔
تشریح : پیخانہ کے راستے سے دودھ پہونچانے کو حقنہ کہتے ہیں ، اس لئے بچے کو کسی عورت کے دودھ کا حقنہ لگایا تو اس سے حرمت رضاعت نہیں ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرمت رضاعت کا مدار گوشت کا نشو ونما ہے اور منہ کے ذریعہ دودھ پینے سے نشو نما