٢ ولانہ سبب النشو فیثبت بہ شبہة البعضےة (١٧١٨)واذا حلب لبن المرأة بعد موتہا فاوجر الصبی تعلق بہ التحریم ) ١ خلافا للشافعی ہو یقول الأصل فی ثبوت الحرمة انما ہو المرأة ثم تتعدی الی غیرہا بواسطتہا و بالموت لم تبق محلا لہا ولہذا لا یوجب وطیہا حرمة المصاہرة
ترجمہ : ٢ اور اس لئے کہ یہ دودھ نشو نما کا سبب ہے اس لئے اس سے بھی بعضیت کا شبہ ثابت ہو گی ۔
تشریح : یہ دوسری دلیل عقلی ہے کہ حرمت کا مدار نشو و نما ہے اور اس دودھ سے بھی نشو ونما ہو گی اس لئے اس دودھ کے پینے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہوگی ۔
ترجمہ : (١٧١٨) جبکہ دودھ نکالا عورت سے اس کے مرنے کے بعد اور ڈال دیا اس کو بچے کے حلق میں تو متعلق ہوگی اس سے حرمت۔
تشریح : عورت کے مرنے کے بعد اس سے دودھ نکالا اور اس کو بچے کے حلق میں ڈال دیا تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
وجہ : اس دودھ میں بچے کی بھوک دور کرنے کی صلاحیت ہے۔اس لئے اس سے رضاعت ثابت ہوگی۔
لغت : البکر : وہ عورت جس سے وطی نہ کی گئی ہو ۔اوجر : منہ میں دوا ڈالنا۔
ترجمہ : ١ خلاف امام شافعی کے وہ فر ماتے ہیں کہ حرمت کے ثابت کرنے میں اصل وہ ماں ہے پھر اس سے اس کے واسطے سے دوسروں کی طرف منتقل ہو تی ہے ، اور مرنے سے ماںحرمت کا محل باقی نہیں رہی ]اس لئے دوسروں کی طرف منتقل نہیں ہو گی [ اسی لئے اس کی وطی سے حرمت مصاہرہ ثابت نہیں ہو گی ۔
تشریح : امام شافعی فر ماتے ہیں کہ عورت کے مرنے کے بعد دودھ نکال کر بچے کو پلایا تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی ۔موسوعة میں ہے ۔ قال الشافعی و لو رضعھا الخامسة بعد موتھا او حلب لہ منھا لبن بعد موتھا فأجر ہ لم یحرم لامہ لا یکون للمیت فعل لہ حکم بحال ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب فی لبن الرجل و المرأة ، ج عاشر ، ص ١٠٥، نمبر ١٥٦٠٩) اس عبارت میں ہے کہ موت کے بعد دودھ دوہا ہو تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ دودھ پینے سے پہلے عورت سے حرمت ثابت ہو تی ہے ، اور اس کے واسطے سے دوسرے لوگ حرام ہو تے ہیں ، اور عورت مر چکی ہے اس لئے اس سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ، اور جب اس سے حرمت ثابت نہیں ہو گی تو اس کے واسطے سے دوسرے سے بھی نہیں ہو گی ۔یہی وجہ ہے کہ مردہ عورت سے وطی کرے تو اس سے حرمت مصاہرہ ثابت نہیں ہو گی ۔