مستہلکا فی جنسہ لاتحاد المقصود ٣ وعن ابی حنیفة فی ہذا روایتان واصل المسألة فی الایمان (١٧١٧)واذا نزل للبکر لبن فارضعت صبیاً تعلق بہ التحریم ) ١ لا طلاق النص
نہیں ہو تا ، اس لئے کہ مقصود کے متحد ہو نے کی وجہ سے چیز جنس میں مل کر معدوم نہیں ہوتی ۔
تشریح: امام محمد اور امام زفر فر ماتے ہیں کہ دو نوں عورتوں کے ساتھ حرمت رضاعت ہو جائے گی ، اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ دو نوں عورتوں کا دودھ ایک ہی جنس ہے ، یعنی دو نوں ہی دودھ ہیں اس لئے دو نوں ملکر دودھ ہی باقی رہے گا ، البتہ ایک کیلو کے بجائے دو کیلو دودھ ہو جائے گا ، اس لئے کسی کا دودھ غالب اور کسی کا دودھ مغلوب نہیں ہو گا ، پس جب دو نوں ہی ایک درجے میں رہے تو دو نوں عورتوں سے حرمت ثابت ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٣ امام ابو حنیفہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں ، اور اصل مسئلہ قسم کے باب میں ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کا اس بارے میں دو روایتیں ہیں ]١[ ایک روایت امام ابو یوسف کے ساتھ ہے کہ جسکا دودھ غالب ہے اس سے حرمت ثابت ہو گی ]٢[ اور دوسری روایت امام محمد کے ساتھ ہے کہ دو نوں عورتوں کے ساتھ حرمت ثابت ہو گی ۔ اور دو نوں کے دلائل وہی ہیں ۔ اور اس کا اصل مدار قسم کے باب میں ہے ۔ کہ ایک آدمی سنے قسم کھائی کہ میں ہندہ عورت کا دو دھ نہیں پیوں گا ، اور دو عورتوں کادودھ ملا کر پیا ، تو ایک روایت کے اعتبار سے ہندہ کا دودھ غالب ہو یا مغلوب دو نوں صورتوں میں حانث ہو جائے گا ۔ اور دوسری روایت]امام ابو یوسف والی [ کے اعتبار سے ہندہ کا غالب ہو گا تو حانث ہو گا ، اور اگر مغلوب ہو گا تو حانث نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : (١٧١٧) اگر باکرہ عورت کو دودھ اترے اور کسی بچے کو پلادیا تو اس سے حرمت متعلق ہوگی۔
ترجمہ : ١ آیت کے مطلق ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : عورت کو دودھ دو طرح سے اترتا ہے۔ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد اور دوسرا کچھ دوائی کھانے سے۔ اس صورت میں صحبت کئے بغیر بھی عورت سے دودھ اتر سکتا ہے، یہاں پر باکرہ سے یہی مراد ہے کہ صحبت کے بغیر دودھ اتر آئے تو چونکہ عورت سے دودھ اتررہا ہے اس لئے اس کا حکم بھی وہی ہے جو بچہ پیدا ہونے کے بعد دودھ اترے۔یعنی اس کے پینے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہوگی۔
وجہ: آیت میں ہے وامھاتکم التی ارضعنکم (آیت ٢٣ سورة النسائ٤) آیت میں پلانے والی ماں سے حرمت کا ثبوت ہے۔ اس میں یہ قید نہیں ہے کہ ماں باکرہ ہو یا ثیبہ ، اس لئے دو نوں قسم کی ماں کے دودھ سے حرمت ثابت ہو گی ، کیونکہ یہ بھی دودھ پلانے والی ماں ہی ہے ۔