Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

328 - 465
(١٧١٥) وان اختلط  اللبن  بلبن  الشاة و ھو الغالب    تعلق بہ التحریم وان غلب لبن الشاة لم یتعلق بہ التحریم) ١ اعتبارا للغالب کما فی الماء  (١٧١٦)واذا اختلط لبن امرأتین تعلق التحریم باغلبہما)    ١ عند ابی یوسف لان الکل صار شیٔاً واحداً فیجعل الاقل تابعاً للاکثر فی بناء الحکم علیہ ٢ وقال محمد و زفر یتعلق التحریم بہما لان الجنس لا یغلب الجنس فان الشیٔ لا یصیر 

سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔   
 اصول:    ان سب مسئلوں کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ دودھ اصل بن کر بھوک دور کر رہا ہو تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی۔اور اگر تابع بن کر پیا جا رہا ہو تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔اور اس کی دلیل(١) حدیث کا لفظ ۔ الرضاعة من المجاعة ۔ ہے (٢) عن ابن مسعود قال لا رضاع الا ما شد العظم وانبت اللحم ۔ (ابو داؤد شریف ، باب رضاعة الکبیر ص ٢٨٨ نمبر ٢٠٥٩ دار قطنی ، کتاب الرضاع ج رابع ص ١٠٢ نمبر ٤٣١٥)
ترجمہ:   (١٧١٥)  اگر مل گیا دودھ بکری کے دودھ کے ساتھ اور وہ غالب ہے تو متعلق ہوگی اس سے حرمت۔پس اگر غالب ہو گیا بکری کا ددھ تو اس سے حرمت متعلق نہیں ہوگی ۔
ترجمہ:   ١  غالب کا اعتبار کرتے ہوئے ، جیسا کہ پانی میں تھا ۔ 
 تشریح :   عورت کا دودھ بکری کے دودھ کے ساتھ ملادیا اور عورت کا دودھ غالب ہو اور وہ اس کو کسی بچے کو پلادے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی۔اور اگر عورت کا دودھ مغلوب ہوتو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔  
وجہ :  عورت کا دودھ غالب ہوتو وہ بھوک دور کرنے میں اصل ہو گیا اس لئے اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی ۔اصول اور اس کے لئے حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
ترجمہ:   (١٧١٦)اگر دو عورتوں کا دودھ ملا دیا تو حرمت متعلق ہوگی ان دونوں میں سے اکثر کے ساتھ۔
 ترجمہ:    ١  امام ابو یوسف کے نزدیک۔ اس لئے کہ تمام دودھ ایک چیز بن گئی اس لئے اس پر حکم کی بنا کر نے کے اقل کو اکثر کے تابع کر دیا گیا ۔
وجہ:   امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ دونوں دودھ ایک ہی جنس ہے اس لئے ایک ہی چیز بن گئی  ، اس لئے جس عورت کا دودھ زیادہ ہے بھوک دور کرنے میں وہ اصل ہو گیا اور دوسرا تابع ہو گیا اس لئے جس عورت کا دودھ زیادہ ہو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی۔ 
ترجمہ:   ٢  اور امام محمد  اور امام زفر  نے فر ما یا کہ حرمت کا تعلق دو نوں عورتوں کے ساتھ ہے اس لئے کہ جنس جنس کے ساتھ غالب 

Flag Counter