١ لانہ اخوہا ولا ولد ولدہا لانہ ولد اخیہا (١٧١١) ولایتزوج الصبی المرضع اخت زوج المرضعة ) لانہا عمتہ من الرضاع (١٧١٢)واذا اختلط اللبن بالماء واللبن ہو الغالب تعلق بہ التحریم وان غلب الماء لم یتعلق بہ التحریم ) ١ خلافا للشافعی ہو یقول انہ موجود فیہ حقیقة
ہے۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ وہ اس کا رضاعی بھائی ہے ، اور نہ دودھ پلانے والی کے بچے کے بچے سے ، اس لئے کہ وہ اس کے بھائی کا بیٹا ہے ۔
تشریح : یہ پہلے ہی مسئلے کا اعادہ ہے۔یعنی ماں نے بچی کو بھی دودھ پلایا اور بچے کو بھی دودھ پلایا تو بچی کا نکاح اس بچے سے جائز نہیں ہے۔کیونکہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہوئے۔اور یہ لڑکی اس رضاعی بھائی کے بیٹے سے بھی نکاح نہیں کر سکتی ، کیونکہ یہ اس کا رضاعی بھتیجا ہوا ۔
ترجمہ : (١٧١١)اور نہیں جائز ہے دودھ پینے والے بچے کا نکاح دودھ پلانے والی عورت کے شوہر کی بہن سے۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ وہ رضاعی پھوپھی ہوئی ۔
تشریح: دودھ پلانے والی ماں کا شوہر رضاعی باپ ہوا اور اس کی بہن رضاعی پھوپھی ہوئی ہے اس لئے دودھ پینے والے بچے کا نکاح رضاعی پھوپھی سے جائز نہیں ہے۔
وجہ :۔ پہلے گزر چکا ہے ۔ الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة۔ (بخاری شریف ، نمبر ٥٠٩٩) کہ نسب سے جس طرح حرام ہوتا ہے رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔
ترجمہ : (١٧١٢)اگر دودھ کو پانی کے ساتھ ملایا اور دودھ غالب ہے تو اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوگی۔پس اگر پانی غالب ہو تو اس کے ساتھ حرمت متعلق نہیں ہوگی۔
تشریح : دودھ میں پانی ملا کر بچے کو پلایا۔پس اگر دودھ غالب ہو یعنی آدھے پانی سے زیادہ ہو تو جس عورت کا دودھ ہے اس سے رضاعت ثابت ہوگی۔اور اگر پانی غالب ہو تو رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔
وجہ: یہاں اعتبار۔ للاکثر حکم الکل۔ کا ہے۔اس لئے جو غالب ہو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
ترجمہ : ١ خلاف امام شافعی کے ، وہ فر ماتے ہیں کہ دودھ اس میں حقیقت میںموجود ہے ۔
تشریح : امام شافعی فر ما تے ہیں کہ اگر برتن میں پانچ گھونٹ کے برابر دودھ مو جود تھا اور پانی بھی موجود تھا اور اس کو بچے نے پیا تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچ گھونٹ سے حرمت ثابت ہو تی ہے ، اور اس میں پانچ