Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

324 - 465
(١٧٠٩) وکل صبیین اجتمعا علی ثدی امرأة واحدة لم یجز لا حدہما ان یتزوج بالاخریٰ ) ١ ہذا ہو الاصل  لان امہما واحدة فہما اخ واخت (١٧١٠)ولا یتزوج المرضعة احداً من ولد التی ارضعت )

تشریح:   رضیہ نے پہلی شادی زید سے کی تھی اس سے عائشہ پیدا ہوئی۔پھر دوسری شادی خالد سے کی اس سے عبد الرحیم پیدا ہوا۔جس کی بنا پر عائشہ رحیم کی ماں شریک بہن ہوئی۔ادھر خالد نے ایک اور شادی سعیدہ سے کی جس سے عبد الرشید پیدا ہوا جو عبد الرحیم کا سوتیلا بھائی ہوا۔اس لئے عبد الرشید کی شادی عائشہ سے ہو سکتی ہے۔کیونکہ عائشہ عبد الرشید کے لئے اجنبیہ ہے۔
ترجمہ :   (١٧٠٩)جن دو بچوں نے ایک چھاتی سے دودھ پیا تو نہیں جائز ہے ان دونوں میں سے ایک کے لئے کہ دوسرے سے شادی کرے ۔
ترجمہ :   ١  یہ قاعدہ ہے اس لیے کہ دو نوں کی ماں ایک ہے ، اور یہ دو نوں رضاعی بھائی بہن ہیں ۔ 
 تشریح :   مثلا خالد اور سعیدہ نے ایک عورت سے دودھ پیا چاہے ایک نے چند سال پہلے دودھ پیا ہو اور دوسری نے چند سال بعد دودھ پیا ہوتو خالد سعیدہ سے شادی نہیں کر سکتا۔   
وجہ:  (١)  کیونکہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہو گئے (٢) حدیث میں ہے کہ حضورۖ اور حضرت حمزہ نے حضرت ثوبیہ سے دودھ پیا تھا جس کی وجہ سے دونوں رضاعی بھائی ہو گئے تھے۔اور حضرت حمزہ کی بیٹی رضاعی بھتیجی ہو گئی تھی۔اور آپۖ نے فرمایا تھا کہ حضرت حمزہ کی بیٹی میرے اوپر پیش نہ کرو وہ رضاعی بھتیجی ہے۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ان زینب ابنة ابی سلمة اخبرتہ ... انھا لابنة اخی من الرضاعة ارضعتنی وابا سلمة ثوبیة فلا تعرضن علی بناتکن واخواتکن ۔ (بخاری شریف، باب یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب ص ٧٦٣ نمبر ٥١٠١ (٣) ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک عورت نے گواہی دی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔اس لئے تمہاری شادی اس عورت سے حلال نہیں ہے۔کیونکہ ایک ہی چھاتی سے دونوں نے دودھ پیا ہے۔ لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔قال وقد سمعتہ من عقبة ... قال تزوجت امرأة فجائتنا امرأة سوداء فقالت ارضعتکما فاتیت النبی ۖ فقلت تزوجت فلانة بنت فلانة فجاء تنا امرأة سوداء فقالت لی انی قد ارضعتکما ۔ (بخاری شریف، باب شہادة المرضعة ص ٧٦٤ نمبر ٥١٠٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو لڑکا لڑکی نے ایک عورت سے دودھ پیا ہو تو آپس میں نکاح حلال نہیں ہے، کیونکہ یہ دو نوں آپس میں رضاعی بھائی بہن ہیں ۔  
لغت:   ثدی  :  پستان۔
ترجمہ :  (١٧١٠)  اور نہیں جائز ہے کہ شادی کرے دودھ پینے والی بچی کسی ایسے بچے سے جس کو اس کی ماں نے دودھ پلایا 
Flag Counter