Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

323 - 465
(١٧٠٨) ویجوز ان یتزوج الرجل باخت اخیہ من الرضاع )  ١ لانہ یجوز ان یتزوج باخت اخیہ من النسب وذلک مثل الاخ من الاب اذا کانت لہ اخت من امہ جاز لاخیہ من ابیہ ان یتزوجہا 

ترجمہ :  (١٧٠٨)اور جائز ہے کہ آدمی رضاعی بھائی کی بہن سے شای کرے۔
 ترجمہ :   ١   اس لئے کہ جائز ہے کہ نسبی بھائی کی بہن سے شادی کرے۔اس کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے باپ شریک بھائی اس کی ماں شریک بہن ہو۔جائز ہے اس کے باپ شریک بھائی کے لئے یہ کہ شادی کرے اس کی ماں شریک بہن سے۔  
تشریح :  یہاں دو مسئلے ہیں۔]١[پہلا مسئلہ یہ ہے کہ رضاعی بھائی کی اپنی بہن سے شادی کرنا جائز ہے۔مثلا زید کا رضاعی بھائی خالد تھا۔ان دونوں نے ایک تیسری عورت سے دودھ پیا تھا ۔اب خالد کی اپنی بہن تھی جو زید کے لئے اجنبیہ تھی اس لئے زید کے لئے جائز ہے کہ خالد کی اپنی بہن سے شادی کر لے۔اس لئے کہ خالد کی بہن زید کے لئے اجنبیہ ہے۔البتہ زید یا خالد اگر لڑکی ہو تو ان دونوں کے درمیان شادی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سوتیلے بھائی کی ماں شریک بہن سے نکاح جائز ہے۔
اس نقشہ کودیکھیں۔


  شوہر زید           ماں رضیہ             باپ خالد          ماں سعیدہ 

                               بہن عائشہ          بھائی عبد الرحیم        بھائی عبد الرشید
                          
                              عبد الرشید کی شادی عبد الرحیم کی ماں شریک بہن عائشہ سے جائز ہے 

Flag Counter