Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

322 - 465
٢ ولنا ماروینا والحرمة بالنسب من الجانبین فکذا بالرضاع ٣ وقولہ علیہ السلام لعائشة رضی اللہ عنہا لیلج علیک افلح فانہ عمک من الرضاعة ٤ ولانہ سبب لنزول اللبن منہا فیضاف الیہ فی موضع الحرمة احتیاطا 

ترجمہ:   ٢  ہماری دلیل وہ حدیث جو ہم نے روایت کی ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نسب کے ذریعہ سے حرمت دو نوں جانب سے ہے ، پس ایسے ہی رضاعت کے ذریعہ سے ہو گی ۔ 
تشریح : رضاعی باپ بھی حرام ہو نگے اس کے لئے صاحب ہدایہ یہاں سے چار دلیل دے رہے ہیں ۔ ]١پہلی دلیل [ ہماری دلیل وہ حدیث ہے جسکو ہم نے پہلے روایت کی یعنی رضاعت سے وہی لوگ حرام ہو تے ہیں جو نسب سے حرام ہو تے ہیں ، ]٢دوسری دلیل [ اور نسب سے دو نوںجانب یعنی ماں اور باپ دو نوں حرام ہو تے ہیں اس لئے حدیث کی وجہ سے رضاعت سے بھی ماں اور باپ دو نوں حرام ہو نگے ۔ حدیث یہ ہے ۔ان عائشة زوج النبی ۖ اخبرتھا ... فقال نعم الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة  (بخاری شریف ، باب ویحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب ص ٧٦٣ نمبر ٥٠٩٩ مسلم شریف ، باب یحرم من الرضاعة ما یحرم من الولادة ص ٤٦٦ نمبر ٣٥٦٨١٤٤٤)اس حدیث میں ہے کہ نسب سے جو لوگ حرام ہو تے ہیں رضاعت سے بھی وہ لوگ حرام ہو نگے ۔ 
ترجمہ :  ٣  اور حضور نے حضرت عائشہ سے فر مایا کہ حضرت افلح تمہارے پاس آسکتے ہیں اس لئے کہ وہ تمہارا رضاعی چچا ہیں۔
تشریح :   ]٣ یہ تیسری دلیل ہے[  حضرت عائشہ  سے حضور ۖ نے فر ما یا تھا کہ حضرت افلح   تمہارے پاس آسکتے ہیں کیونکہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں اور چچا باپ کے واسطے سے بنتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ باپ سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو گی ۔ حدیث یہ ہے ۔  عن عائشہ قالت جاء عمی من الرضاعة یستأذن علی فابیت ان آذن لہ حتی استأمر رسول اللہ ۖ فقال رسول اللہ ۖ فلیلج علیک فانہ عمک،قالت انما ارضعتنی المرأة ولم یرضعنی الرجل قال فانہ عمک فلیلج علیک ۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی لبن الفحل ص ٢١٨ نمبر ١١٤٨ بخاری شریف، باب لبن الفحل ص ٧٦٤ نمبر ٥١٠٣ مسلم شریف ، باب تحریم الرضاعة من ماء الفحل ص٤٦٦ نمبر ٣٥٧١١٤٤٥)
ترجمہ :   ٤   اور اس لئے کہ شوہر عورت کے دودھ اترنے کا سبب ہے ، اس لئے حرمت کی جگہ میں احتیاط کے لئے باپ کی طرف منسوب کیا جائے گا ۔
تشریح  :  ]٤۔ یہ چوتھی دلیل عقلی ہے [ عورت سے دودھ اترنے کا سبب شوہر ہی ہے اس لئے احتیاط کی جگہ میں بچے کو شوہر کی طرف منسوب کیا جائے گا ، اور باپ کا بچہ شمار کر کے حرمت رضاعت ثابت کی جائے گی ۔  

Flag Counter