Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

321 - 465
 ١ وفی احد قولی الشافعی لبن الفحل لا یحرم لان الحرمة لشبہة البعضےة و اللبن بعضہا لا بعضہ 

گئے۔جیسے نسبی باپ، دادا اور بھائی حرام ہو جاتے ہیں (٢) حدیث میں ہے ، جسکو صاحب ہدایہ نے پیش کیا ہے۔عن عائشہ قالت جاء عمی من الرضاعة یستأذن علی فابیت ان آذن لہ حتی استأمر رسول اللہ ۖ فقال رسول اللہ ۖ فلیلج علیک فانہ عمک،قالت انما ارضعتنی المرأة ولم یرضعنی الرجل قال فانہ عمک فلیلج علیک ۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی لبن الفحل ص ٢١٨ نمبر ١١٤٨ بخاری شریف، باب لبن الفحل ص ٧٦٤ نمبر ٥١٠٣ مسلم شریف ، باب تحریم الرضاعة من ماء الفحل ص٤٦٦ نمبر ٣٥٧١١٤٤٥) اس حدیث میں ہے کہ رضاعی باپ کا جو بھائی تھا جس کو رضاعی چچا کہتے ہیں۔اس سے پردہ نہیں ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی محرم بن گئے۔اور رضاعی باپ کے اصول اور فروع بھی محرم بن گئے۔ان سے بھی شادی کرنا حرام ہوگیا (٣)عن ابن عباس انہ سئل عن رجل لہ جاریتان ارضعت احداھما جاریة والاخری غلاما ایحل للغلام ان یتزوج الجاریة ؟فقال: لا، اللقاح واحد ۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی لبن الفحل ص ٢١٨ نمبر ١١٤٩ سنن للبیہقی ، باب یحرم من الرضاع ما یحرم من الولادة وان لبن الفحل یحرم ج سابع ص ٤٥٣) اس اثر میں ایک آقا کی دو باندیاں تھیں۔اور دونوں کو دودھ اترتا تھا ۔ایک باندی نے لڑکے کو دودھ پلایا اور دوسری نے لڑکی کو دودھ پلایا تو چونکہ دونوں کا رضاعی باپ ایک ہے اس لئے یہ دونوں آپس میں شادی نہیں کر سکتے۔جس سے معلوم ہوا کہ جس شوہر کی صحبت سے دودھ اترا ہے حرمت میں اس کا اعتبار ہے۔
ترجمہ:   ١  حضرت امام شافعی  کے دو قول میں سے ایک قول میں یہ ہے کہ مرد کا دودھ حرام نہیں کرتا اس لئے کہ حرمت بعضیت کے شبہ کی وجہ سے ہے اور دودھ عورت کا جزو ہے نہ کہ شوہر کا ،] اس لئے شوہر یعنی باپ سے حرمت نہیں ہو نی چا ہئے[۔ 
تشریح:   امام شافعی  کا ایک قول یہ ہے کہ عورت کے دودھ پلانے کی وجہ سے اس کا شوہر بچی کے لئے حرا م نہیں ہو گا ، اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ دودھ کی وجہ سے بچی ماں کا جزو بن جاتی ہے اس لئے حر مت ہوتی ہے ، اور یہ دودھ عورت کا ہے شوہر کا تو ہے نہیں اس لئے بچی شوہر کا جزو نہیں بنی اس لئے اس سے حرمت بھی ثابت نہیں ہو نی چا ہئے ۔ ۔لیکن امام شافعی کا دوسرا قول اصل ہے کہ رضاعی باپ بھی لڑکی کے لئے حرام ہوگا ، کیونکہ اسی کی وطی سے دودھ اترا ہے ، موسوعہ میں عبارت یہ ہے ۔ قال الشافعی  و اللبن اذا کان من حمل  و لا احسبہ یکون الا من حمل  فاللبن للرجل و المرأة کما یکون الولد للرجل و المرأة۔ ( موسوعہ امام شافعی ، باب فی لبن الرجل و المرأة ، ج عاشر، ص ١٠٠، نمبر ١٥٥٨٣) اس عبارت میں ہے کہ دودھ مرد اور عورت دو نوںکا ہے اس لئے دو نوں سے حرمت ثابت ہو گی ۔ 
لغت:   فحل : سانڈ ، وہ شوہر جس نے عورت سے وطی کی ہو اور اس سے بچہ پیدا ہوا ہو ۔البعضیة : بعض ہو نا ، جزو ہو نا ۔ 

Flag Counter