Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

320 - 465
١ لما روینا ٢ و ذکر الاصلاب فی النص لا سقاط اعتبار التبنی علی ما بیناہ (١٧٠٧)ولبن الفحل یتعلق بہ التحریم وہو ان ترضع المرأة صبےة فتحرم ہذہ الصبےة علی زوجہا وعلی اٰبائہ و ابنائہ ویصیر الزوج الذی نزل لہا منہ اللبن اباً للمرضعة )

 ترجمہ:   ١   اس حدیث کی بنا پر جو ہم نے روایت کی ۔  
تشریح:  رضاعی باپ کی بیوی کی صورت یہ ہے کہ ، مثلا خالد نے عمر کی بیوی کا دودھ پیا جسکی وجہ سے عمر رضاعی باپ بن گیا ، پھر عمر نے دوسری بیوی ہندہ سے نکاح کیا ،پھر ہندہ کو طلاق دے دی تو خالد کے لئے ہندہ سے شادی کر نا جائز نہیں ہے ، کیونکہ یہ رضاعی باپ کا مدخول بھا ہے ۔اور رضاعی بیٹے کی بیوی کی صورت یہ ہے عمر کی بیوی نے خالد کو دودھ پلا یا جسکی وجہ سے خالد اس کا رضاعی بیٹا بن گیا ، اب خالد کی بیوی سے عمر کا نکاح درست نہیں ہے ، کیونکہ وہ رضاعی بہو بن گئی ۔ جس طرح اپنے نسبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہوتا۔  
وجہ:    (١)آیت میں ہے۔وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم۔ (آیت ٢٣ سورة النسائ٤) اس آیت میں اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا حرام قرار دیا۔ اس سے متبنی بیٹے کی بیوی نکل گئی ۔اس سے شادی کر سکتا ہے۔لیکن رضاعی بیٹے کی بیوی داخل ہے اور اس سے نکاح کرنا حرام ہے (٢) اثر میں ہے۔حدثنی عمی ایاس بن عامر قال قال لا تنکح من ارضعتہ امرأة  ابیک ولا امرأة ابنک ولا امرأة اخیک ۔ (سنن للبیہقی ، باب یحرم من الرضاع ما یحرم من الولادة وان لبن الفحل یحرم ج سابع ،ص ٧٤٦، نمبر ١٥٦١٦) اس اثر میں ہے کہ رضاعی بیٹے کی بیوی سے شادی مت کرو۔
ترجمہ:   ٢  آیت میں صلب کا ذکر متبنی کے اعتبار کو ساقط کر نے کے لئے ہے جیسا کہ  ہم نے بیان کیا ۔ 
تشریح :  آیت ۔ وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم۔ (آیت ٢٣ سورة النسائ٤)  میں اصلاب کا ذکر متبنی بیٹے کی بیوی کو ساقط کر نے کے لئے ہے ، ورنہ رضاعی بیٹے کی بیوی سے نکاح کر نا حرام ہے ۔ 
ترجمہ:   (١٧٠٧)  مرد کے دودھ سے حرمت متعلق ہوتی ہے وہ یہ کہ عورت دودھ پلائے بچی کو تو حرام ہوجائے یہ بچی اس کے شوہر پر اور شوہر کے باپ پر اور شوہر کے بیٹوں پر اور وہ شوہر جس سے عورت کا دودھ اترا ہے وہ دودھ پینے والی بچی کا باپ ہوگا ۔
 تشریح  :   مثلا فاطمہ نے ساجدہ بچی کو دودھ پلایا تو فاطمہ کا شوہر مثلا زید ہے جس کی وطی سے فاطمہ کو دودھ اترا ہے۔اس شوہر کے لئے ساجدہ دودھ پینے والی بچی حرام ہو گئی۔اسی طرح شوہر زید کا باپ بچی کیلئے دادا بن گیا ۔اس لئے زید کا باپ ساجدہ سے شادی نہیں کر سکتا۔زید کا نسبی بیٹا خالد ساجدہ بچی کا رضاعی بھائی بن گیا اس لئے ساجدہ اس رضاعی بھائی سے شادی نہیں کر سکتی۔  
وجہ:   (١)صحبت کرنے کی وجہ سے دودھ اترا ہے اس لئے شوہر کا اصول یعنی باپ دادا اور فروع یعنی بیٹا اور پوتا بچی پر حرام ہو 

Flag Counter