(١٧٠٤) الا ام اختہ من الرضاع فانہ یجوز ان یتزوجہا ولا یجوز ان یتزوج ام اختہ من النسب )
١ لانہا تکون امہ او موطوء ة ابیہ بخلاف الرضاع (١٧٠٥) ویجوز تزوج اخت ابنہ من الرضاع ولایجوز ذلک من النسب) ١ لانہ لما وطی امہا حرمت علیہ ولم یوجد ہذا المعنی فی الرضاع (١٧٠٦)وامرأة ابیہ او امرأة ابنہ من الرضاع لا یجوز ان یتزوجہا کما لا یجوز ذلک من النسب )
(٢) حدیث میں ہے۔ان عائشة زوج النبی ۖ اخبرتھا ... فقال نعم الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة (بخاری شریف ، باب ویحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب ص ٧٦٣ نمبر ٥٠٩٩ مسلم شریف ، باب یحرم من الرضاعة ما یحرم من الولادة ص ٤٦٦ نمبر ٣٥٦٨١٤٤٤) اس سے ثابت ہوا کہ نسب کی وجہ سے جن عورتوں سے نکاح حرام ہے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو گا۔
ترجمہ: (١٧٠٤) مگر رضاعی بہن کی ماں کہ جائز ہے اس سے نکاح کرنا۔اور نہیں جائز ہے کہ نسبی بہن کی ماں سے شادی کرے۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ وہ اس کی ماں ہو گی یا اس کی باپ کی موطوہ ہو گی ، بخلاف رضاعی بہن کی ماں کے ۔
تشریح: رضاعی بہن کی ماں اجنبیہ ہوگی اس لئے اس سے نکاح کرنا جائز ہے۔اور نسبی بہن کی ماں تو خود کی ماں بن گئی اس لئے اس سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔یا اپنی سوتیلی بہن کی ماں سوتیلی ماں ہوگی اور باپ کی مدخول بھا ہوگی اس لئے اس سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔
ترجمہ: (١٧٠٥) اور رضاعی بیٹے کی بہن سے جائز ہے نکاح کرنا ۔اور نہیں جائز ہے نسبی بیٹے کی بہن سے شادی کرنا۔
وجہ: رضاعی بیٹے کی بہن اجنبیہ ہوگی۔اس لئے اس سے نکاح جائز ہوگا۔اور اپنے نسبی بیٹے کی بہن اپنی بیٹی ہوگی اس لئے اس سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ جب اس کی ماں سے وطی کیا تو لڑکی اس پر حرام ہو گئی ، اور یہ معنی رضاعی میں نہیں پائی گئی ۔
تشریح : اپنے نسبی بیٹے کی اپنی بہن ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ]١[ ایک یہ کہ یہ لڑکی بھی اسی آدمی کے نطفے سے ہے تب تو یہ اپنی بیٹی بن گئی ، اور اپنی بیٹی سے نکاح جائز نہیں ۔ ]٢[ اور دوسری صورت یہ ہے کہ بیٹا تو اپنا ہے لیکن اس کی ماں سے جو لڑکی پیدا ہوئی ہے وہ دوسرے شوہر سے ، لیکن ماں سے جب وطی کیا تو وہ مدخول بہا بن گئی اور مدخول بہا کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں ہو گی ، کیونکہ وہ سوتیلی بیٹی بن گئی ، اس لئے اس سے بھی نکاح جائز نہیں ہے ، صاحب ہدایہ نے یہی دلیل بیان کی ہے ۔ اور اپنے بیٹے کی رضاعی بہن ہے تو باپ نے اس کی ماں سے وطی نہیں کیا ہے اس لئے اس لڑکی سے نکاح جائز ہے ۔
ترجمہ: (١٧٠٦) اور نہیں جائز ہے نکاح رضاعی باپ کی بیوی سے ، یابیٹے کی بیوی سے ، جیسا کہ نہیں جائز ہے نسبی سے ۔