Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

318 - 465
٤ وہل یباح الا رضاع بعد المدة قد قیل لا یباح لان اباحتہ ضرورےة لکونہ جزء الا دمی  (١٧٠٣)قال ویحرم من الرضاع ما یحرم من النسب)   ١   للحدیث الذی روینا

بڑھنے کا مدار اب دودھ پر نہیں رہا بلکہ غذا پر ہو گیا ہے اس لئے دودھ پینے سے گو یا کہ گوشت اور ہڈی نہیں بڑھی اس لئے اس وقت پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی ۔ 
وجہ:   اس حدیث میں اس کا اشارہ ہے ۔  عن عائشة  ان ا لنبی ۖ   دخل علیھا و عندھا رجل فکانہ تغیر وجھہ ، کانہ کرہ ذالک فقالت انہ اخی فقال انظرن ما اخواتکن فانما الرضاعة من المجاعة ۔ (بخاری شریف، باب لا رضاع بعد حولین ، ص٩١٢ ، نمبر ٥١٠٢) اس حدیث میں ہے کہ جو دودھ بھوک کو ختم کرے اس دودھ سے حرمت ثابت ہو تی ہے ، اور اس بچے نے غذا کھا نا شروع کر دیا ہے اس لئے اس سے بھوک ختم نہیں ہو گی اس لئے اس سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ (٢) اس اثرمیں ہے ۔ عن الحجاج بن الحجاج الاسلمی انہ استفتی ابا ھریرة فقال لا یحرم الا ما فتق الامعاء ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب القلیل من الرضاع ، ج سابع ، ص ٣٧٣، نمبر ١٣٩٨٥) اس اثر میں ہے کہ اس دودھ سے حرمت ثابت ہو گی جس سے آنت بڑھے اور بھوک ختم ہو ، اور اس کا کھانا غذا ہو گیا ہے اس لئے اس سے حرمت ثابت نہیں ہو نی چا ہئے ۔ 
لغت:   فطام : دودھ پینا چھوڑ دینا ۔ النشو: نشو و نما ، گوشت اور ہڈی بڑھنا ۔ 
 ترجمہ :   ٤  دو سال کی مدت کے بعد دودھ پلا نا جائز ہے ، تو کہا گیا ہے کہ مباح نہیں ہے اس لئے کہ دودھ پینے کی اباحت ضرورت کی وجہ سے ہے اس لئے کہ وہ آدمی کا جزو ہے ۔ 
  تشریح :   بچے پر ڈھائی سال کی مدت گزر چکی ہے ، لیکن بچہ مزید دودھ پینا چا ہتا ہے ، تو کیا اس کو ماں کا دودھ پلانا جائز ہے ؟ تو فر ما تے ہیں کہ مباح نہیں ہے ، کیونکہ یہ آدمی کا جزو ہے ، اور آدمی کا جزو ضرورت کی بنا پر حلال کیا گیا ہے ، اور ڈھائی سال میں ضرورت پوری ہو گئی ، اس لئے اب مباح نہیں ہو نا چا ہئے ۔ 
ترجمہ:   (١٧٠٣)  اور دودھ پلانے سے حرام ہوتے ہیں وہ لوگ جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
ترجمہ :   ١  اس حدیث کی بنا پر جو ہم نے روایت کی ۔
تشریح :    یہاں سے فرمانا چاہتے ہیں کہ جو لوگ نسب سے حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نسب سے تو حرام ہو جائیںگے لیکن رضاعت کی وجہ سے وہ دور کے رشتہ دار ہو جاتے ہیں۔اس لئے وہ لوگ حرام نہیں ہوںگے۔ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے ۔
 وجہ:   (١) حرمت کی دلیل یہ آیت ہے ۔ وامھاتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعة (آیت ٢٣ سورة النسائ٤) 

Flag Counter