٢ و لان الحرمة باعتبار النشووذلک فی المدة اذا الکبیر لا یتربی بہ ٣ ولایعتبر الفطام قبل المدة الا فی رواےة عن ابی حنیفة اذا استغنی عنہ ووجہہ انقطاع النشو بتغیر الغذاء
ھذا بکذا و کذا و قد قال رسول اللہ ۖ : لا رضاع الا ما شد العظم و انبت اللحم ۔ ( سنن بیہقی ، باب رضاع الکبیر ، ج سابع ، ص ٧٥٩، نمبر ١٥٦٥٣) (٣)عن عبد اللہ قال لا رضاع الا ما کان فی الحولین ]ما انشز العظم و انبت اللحم ۔ ( سنن بیہقی ، باب رضاع الکبیر ، ج سابع ، ص ٧٥٩، نمبر١٥٦٦٥)(٤) اوپر حدیث گزر گئی ۔ لا رضاع الا ماکان فی الحولین(دار قطنی ،نمبر ٤٣١٨) (٥)اور دوسری حدیث گزری فانما الرضاعة من المجاعة ۔ (بخاری شریف ، نمبر ٥١٠٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد بچے کو دودھ پلائے تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔
ترجمہ: ٢ اس لئے کہ حرمت گوشت بڑھنے کے اعتبار سے ہے اور یہ رضاعت کی مدت میں ہے اس لئے کہ بڑا دودھ سے نہیں بڑھتا ۔
تشریح: رضاعت کی حرمت کا مدار اس بات پر ہے کہ اسی دودھ سے ہی گوشت اور ہڈی بڑھے ، اور یہ ڈھائی سال کے اندر ہو تا ہے ، اس لئے کہ ڈھائی سال کے بعد غذا سے بھی گوشت اور ہڈی بڑھتی ہے اس لئے ڈھائی سال کے بعد دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔
وجہ : اس اثرمیں ہے ۔ عن الحجاج بن الحجاج الاسلمی انہ استفتی ابا ھریرة فقال لا یحرم الا ما فتق الامعاء ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب القلیل من الرضاع ، ج سابع ، ص ٣٧٣، نمبر ١٣٩٨٥) اس اثر میں ہے کہ اس دودھ سے حرمت ثابت ہو گی جس سے آنت بڑھے اور بھوک ختم ہو ۔
ترجمہ: ٣ مدت سے پہلے دودھ چھوڑنے کا اعتبار نہیں ہے مگر امام ابو حنیفہ سے ایک روایت میں جبکہ دودھ سے بے پرواہ ہو جائے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غذا کے بدلنے سے اس کی نشو نما منقطع ہوگئی ۔
تشریح: کسی بچے کو ڈھائی سال سے پہلے مکمل دودھ چھڑا دیا گیا اور وہ مکمل طور پر غذا پر بھروسہ کر نے لگا اب کسی عورت نے دودھ پلا دیا تب بھی حرمت رضاعت ثابت ہو گی ۔
وجہ: اس کی وجہ یہ ہے کہ چا ہے اس نے دودھ چھوڑ دیا ہے پھر بھی حدیث کے اعتبار سے وہ ابھی مدت رضاعت میں ہے اس لئے اس مدت میں دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہو گی ۔ البتہ حسن بن زیاد سے امام ابو حنیفہ کی ایک روایت ہے کہ اس کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے مکمل طور پر دودھ چھوڑ دیا ہے تو اس کے گوشت اور ہڈی