الرضیع کما یغایر غذاء الفطیم ٧ والحدیث محمول علی مدة الاستحقاق وعلیہ یحمل النص المقید بحولین فی الکتاب (١٧٠٢) قال واذا مضت مدة الرضاع لم یتعلق بالرضاع تحریم )
١ لقولہ علیہ السلام لا رضاع بعد الفصال
کچھ وقت ضروری ہے ، اس لئے کہ پیٹ کے بچے کی غذا اور ہے اور دودھ پیتے بچے کی غذا اور ہے ، اور دودھ چھوڑنے والے بچے کی غذا اور ہے ، اس لئے حمل کی جو ادنی مدت ہے اس سے اندازہ لگا یا گیا اور چھ مہینے اور بڑھا کر تیس مہینے کر دئے گئے ۔
لغت: یتوعد : عادی بن جائے ۔انبات : اگنا ، بڑھنا۔ جنین : پیٹ کے اندر کا بچہ ۔ رضیع : دودھ پیتا بچہ ۔ فطیم : دودھ چھوڑنے والا بچہ ۔فصال: دودھ چھوڑنا ۔
ترجمہ: ٧ اور حدیث مدت استحقاق پر محمول ہے ، اور اسی پر اس آیت کو حمل کیا جائے گا جو دو سال کے ساتھ مقید ہے ۔
تشریح: یہ صاحبین کی پیش کردہ حدیث کا جواب ہے ، فر ما تے ہیں کہ حدیث میں جو ہے کہ دو سال تک دودھ پلائے ، اس حدیث میں مدت رضاعت نہیں بیان کی گئی ہے ، بلکہ اجرت دیکر دودھ پلانے کی مدت بیان کی گئی ہے ، کہ باپ پر اجرت دیکر دو سال تک دودھ پلانا ضروری ہے ۔ اور جس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دو سال تک دودھ پلائے اس میں بھی اجرت دیکر دودھ پلانے کا ذکر ہے ، مدت رضاعت کا ذکر نہیں ہے ، اس لئے مدت رضاعت دو سال سے زیادہ ہو سکتی ہے کہ ڈھائی سال کے اندر اندر دودھ پلائے تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال رسول اللہ ۖ لا رضاع الا ماکان فی الحولین۔ (دار قطنی ، کتاب الرضاع ،ج رابع ،ص ١٠٣ ،نمبر ٤٣١٨ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی تحدید ذلک بالحولین ،ج سابع، ص ٧٦٠ ، نمبر ١٥٦٦٣)اور آیت یہ تھی ۔والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعة ۔ (آیت ٢٣٣ سورة البقرة٢) اس آیت میں ہے کہ باپ پر دو سال تک دودھ پلانا ضروری ہے ۔
ترجمہ: (١٧٠٢) اگر رضاعت کی مدت گزر جائے تو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
ترجمہ: ١ حضورۖ کے قول کی وجہ سے کہ دودھ چھڑانے کے بعد حرمت رضاعت نہیں ہے ۔
تشریح: اگر مدت رضاعت دو سال یا ڈھائی سال گزر گیا اور اس کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو اب اس عورت سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی ۔
وجہ: (١) اس حدیث میں ہے جسکو صاحب ہدایہ نے پیش کیا ہے ۔عن علی قال قال رسول اللہ ۖ لا طلاق الا بعد نکاح و لا عتق قبل ملک و لا رضاع بعد فصال ۔( سنن بیہقی ، باب رضاع الکبیر ، ج سابع ، ص ٧٥٩، نمبر ١٥٦٥٨) اس حدیث میں ہے کہ دودھ چھوڑنے کے بعد اب حرمت رضاعت نہیں ہو گی ۔ (٢ ) اتی ابن مسعود فقال انت الذی تفتی