٤ وقال النبی علیہ السلام لارضاع بعد حولین ٥ ولہ ہذہ الاٰےة ووجہہ انہ تعالی ذکر شیأین وضرب لہما مدة فکانت لکل واحد منہما بکما لہا کالاجل المضروب للدینین الاانہ قام المنقص فی احدٰ ہما فبقی الثانی علی ظاہرہ ٦ ولانہ لابد من تغیر الغذاء لینقطع الانبات باللبن وذلک بزیادة مدة یتعود الصبی فیہا غیرہ فقدرت بادنی مدة الحمل لانہا مغیرة فان غذاء الجنین یغایر غذاء
ترجمہ: ٤ صاحبین کی دوسری دلیل حضورۖ کا قول ہے کہ دوسال کے بعد دودھ پلانا نہیں ہے ۔ اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال رسول اللہ ۖ لا رضاع الا ماکان فی الحولین۔ (دار قطنی ، کتاب الرضاع ،ج رابع ،ص ١٠٣ ،نمبر ٤٣١٨ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی تحدید ذلک بالحولین ،ج سابع، ص ٧٦٠ ، نمبر ١٥٦٦٣) اس حدیث میں ہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانا نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٥ امام ابو حنیفہ کی دلیل بھی یہی آیت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دو چیزیں ذکرکیں، اور دو نوں کے لئے ایک مدت متعین کی اس لئے ہر ایک کی مدت پوری پوری ہو گی ، جیسے کہ کوئی مدت دو قرضوں کے لئے متعین ہو ، مگر یہ کہ دو نوں میں سے ایک میں کم کرنے والی حدیث مل گئی ، اس لئے دوسری اپنے ظاہر پر باقی رہی ۔
تشریح: امام ابو حنیفہ جو فر ماتے ہیں کہ رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے انکی دلیل بھی یہ آیت ہے ۔و حملہ و فصالہ ثلاثون شھرا ۔(آیت ١٥، سورة الاحقاف ٤٦) لیکن انکا طریقہ استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں دودھ پلانے کی مدت بھی بیان کی گئی ہے اور حمل کی مدت بھی بیان کی گئی ہے اور دونوں کے لئے تیس مہینے کہا گیا ہے اس لئے دو نوں کے لئے تیس تیس مہینے مدت ہو گی ، جس طرح دو قرضوں کی مہلت کی مدت ایک سال ہو تو دونوں کے لئے ایک ایک سال کی مہلت ہو جائے گی ، اسی طرح یہاں ہے ۔ البتہ حضرت عائشہ کے قول کی وجہ سے حمل کی مدت دو سال ہے اس لئے رضاعت کی مدت اپنی جگہ تیس مہینے یعنی ڈھائی سال ہی ہو گی ۔
لغت: اجل : مدت ۔ ضرب : متعین کر نا ۔ منقص : کم کر نے والی چیز ۔
ترجمہ: ٦ اور اس لئے کہ غذا کی تبدیلی ضروری ہے تاکہ دودھ سے بڑھنا منقطع ہو جائے اور یہ تغیر ایسی مدت کی زیادتی سے ہو گا جس میں بچہ دودھ کے علاوہ دوسری غذا کا عادی ہو جائے ، پس ادنی مدت حمل کے ساتھ اس زیادتی کا اندازہ لگایا گیا ہے ، کیونکہ یہ مدت تغیر دینے والی ہے ، اس لئے کہ پیٹ کے بچے کی غذا دودھ پیتے بچے کی غذا سے الگ ہے ، اور دودھ پیتے بچے کی غذا دودھ چھوڑنے والے بچے کی غذا سے الگ ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ آیت کی وجہ سے دو سال تو طے ہے اس کے بعد دودھ پینے سے کھانے کی عادت بدلنے کے لئے